BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 November, 2004, 01:55 GMT 06:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلوجہ جنگ شدید موصل فضائی حملہ
فلوجہ
فلوجہ میں امریکی فوجیوں کا نیا اڈہ مزاحمت کاروں کے لیے آسان حدف ثابت ہوا
فلوجہ میں پیر کے دن سے جاری فوجی کارروائی میں امریکی فوجی ذرائع کے مطابق تقریبا چھ سو مزاحمت کار 18 امریکی اور دو عراقی فوجی ہلاک اور تقریبا 180 زخمی ہوئے ہیں ۔

اس کے علاوہ موصل میں پولیس اسٹیشنوں کو لوٹ مار کے بعد نذرِ اتش کیے جانے کے واقعات کے بعد امریکی طیاروں نے بمباری کی ہے۔

موصل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ موصل فلوجہ کے بعد تیسرا شہر جس میں مزاحمت کاروں نے کارروائیاں کی ہیں اور کئی پولیس اسٹیشنوں کی عمارتوں پر حملے کر اسلحہ لوٹ لیا ہے اور بعد میں انہیں نذرِ اتش کر دیا۔

بتایا گیا ہے کہ اگرچہ موصل شمال میں خاص طور پر کردوں کے علاقے کا حصہ تصور کیا جاتا ہے لیکن اس آبادی بالکثرت سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موصل اور دوسرے شہروں میں کارروائی کا مقصد فلوجہ پر امریکی فوجی کارروائی پر سے توجہ ہٹانا ہے۔

فلوجہ سے ملنے والی خبروں کے مطابق شدید جنگ جاری ہے اور امریکہ مخالف عراقیوں کو فلوجہ سے باہر دھکیلنے میں امریکی و عراقی افواج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

امریکی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ تیسرے روز کے جنگ میں امریکہ مخالف شہری سینکڑوں کی تعداد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ اٹھارہ امریکی اور دو عراقی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق انہتر امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مزاحمت کاروں نے امریکی فوج کے ہیڈ کواٹرز پر شدید حملہ حملہ کیا جس کے وجہ سے امریکی فوجیوں کو اس ہسپتال سے پس پا ہونا پڑا جس انہوں نے پہلے قبضہ کر لیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ مزاحمت کاروں نے مسلسل گولہ باری کی۔

شہر کے قریب دو ہیلی کاپٹروں کو بھی اس وقت اترنے پر مجبور ہونا پڑا جب ان پر ہلکے آتشیں اسلحے اور دستی بموں سے حملہ کیا گیا۔

رپورٹوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ایک امریکی کمانڈر نہ کہا کہ مزاحمت کار مساجد کو اہنی کارروائیوں کے مراکز اور اسلحہ جمع کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے اپنی حفاظت کے لیے چار ہوائی حملے کیے اور امریکی فوجی نےگھر گھر مزاحت کاروں کو تلاش کیا۔

گزشتہ روز امریکی ذرائع نے کہا تھا کہ فلوجہ کے تین چوتھائی حصے پر قبضہ کر لیا گیا اور جیسے جیسے شہر کے مزید علاقوں پر قبضہ حاصل کیا جائے گا انہیں عراقیوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ان اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ مبینہ مزاحمت کاروں کو شہر کے مشرقی اور مغربی حصے کو بانٹتی شاہراہ کے ساتھ ساتھ جاتی ایک پٹی میں سمٹنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد