BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لڑائی فلوجہ کے مرکز میں
فلوجہ
مزاحمت کاروں نے رات گئے ایک تیل کی پائپ لائن کو آگ لگا دی تھی
امریکی میرینز نے فلوجہ کے مرکزی حصے میں میئر کا دفتر قبضے میں کر لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اب ستر فیصد شہر ان کے قبضے میں ہے اور مزاحمت کار صرف شہر کی ایک پٹی میں رہ گئے ہیں۔

میئر کے دفتر سے بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکزی حصے میں شدید لڑائی ہو رہی ہے اور امریکی فوج باہر کا حصہ کنٹرول کیے ہوئے ہے۔

امریکی فوج کے اندازے کے مطابق بدھ کے روز سینکڑوں مزاحمت کار ہلاک ہو اور کم از کم ایک میرین کی ہلاکت ہوئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جیسے ہی امریکی میرینز نے ایک پولیس سٹیشن اور میئر کے دفتر پر قبضہ کیا ان پر فائرنگ شروع ہو گئی۔ اس کے بعد ایک مسجد کے ارد گرد بھی کافی لڑائی ہوتی رہی۔

فلوجہ میں موجود ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کے شمال مغربی حصے جولان ڈسٹرکٹ میں شدید لڑائی ہو رہی ہے اور مزاحمت کار ایک گلی سے دوسری گلی جا رہے ہیں۔

صحافی کے مطابق مزاحمت کاروں نے دو امریکی ٹینک تباہ کر دیے ہیں اور چند امریکیوں اور کئی مزاحمت کاروں کی لاشیں سڑک پر پڑی ہوئی ہیں۔

ریڈ کراس نے کہا ہے کہ اسے فلوجہ میں زخمی ہونے والوں کی حالت پر بڑی تشویش ہے اور اس نے دونوں فریقوں سے اپیل کی ہے کہ جن لوگوں کو طبی امداد کی ضرورت ہے انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے محفوظ راستہ دیا جائے۔

دوسری طرف فلوجہ میں جنگ کے ساتھ ساتھ مزاحمت کاروں نے ملک کے دوسرے حصوں میں کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

بغداد کے شمال میں بلاد شہر کے نزدیک ایک امریکی فوجی قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہو گیا۔ اسے سے ذرا دور بائیجی کے علاقے میں مزاحمت کاروں اور عراقی سکیورٹی فوج کے درمیان لڑائی کے دوران کم از کم پانچ عام شہری ہلاک ہو گئے۔

بغداد کے جنوب میں کربلا کے مقام پر مزاحمت کاروں نے ایک پولیس سٹیشن پر حملہ کیا اور ایک پولیس والے کو ہلاک اور پانچ کو زخمی کر دیا۔

شمال ہی میں کرکک شہر کے نزدیک تز کے مقام پر دو بم حملوں میں چھ عراقی فوجی ہلاک ہو گئے۔

دریں اثناء بغداد میں عبوری عراقی وزیرِ اعظم ایاد علاوی کے کزن کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ 75 سالہ غازی الاوی کو مغربی ڈسٹرکٹ یرموک میں واقع ان کے گھر سے اغوا کیا گیا۔ ان کے ساتھ ان کی بہو کو بھی اغوا کر لیا گیا ہے۔

ادھر فلوجہ میں موجود امریکی کمانڈر نے عراقی فوجیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں محض چند لوگ ہلاک ہوئے ہیں جب کہ شہر سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ شہر کی گلیاں اور سڑکیں لاشوں سے اٹی پڑی ہیں۔

جنرل تھامس نے کہا ہے کہ فوج نے اپنے مقاصد قبل از وقت حاصل کر لیے ہیں تاہم ابھی اس بات کا خطرہ ہے کہ جنگ شدت اختیار کر جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی کئی دن تک جاری رہ سکتی ہے۔

فلوجہ سے بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا ہے کہ لڑائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور اب شہر کے مرکز پر قبضے کی جنگ ہوگی۔

امریکی فوج کےترجمان کے مطابق عراقی اور امریکی افواج لڑائی کے دوسرے دن فلوجہ شہر کے شمالی حصہ پر قبضہ کر چکی ہیں۔

شہر کا آسمان دھماکوں اور شعلوں سے بار بار چمک اٹھتا ہے اور دھماکوں سے عمارتیں لرز رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد