فلوجہ: گھمسان کی جنگ جاری ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلوجہ میں گھمسان کی جنگ جاری ہے اور امریکی کمانڈر نے کہا ہے کہ جنگ ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ انہوں نے عراقی فوجیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں محض چند لوگ ہلاک ہوئے ہیں جب کہ شہر سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ شہر کی گلیاں اور سڑکیں لاشوں سے اٹی پڑی ہیں۔ جنرل تھامس نے کہا ہے کہ فوج نے اپنے مقاصد قبل از وقت حاصل کر لیے ہیں تاہم ابھی اس بات کا خطرہ ہے کہ جنگ شدت اختیار کر جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی کئی دن تک جاری رہ سکتی ہے۔ فلوجہ سے بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے بتایا ہے کہ لڑائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور اب شہر کے مرکز پر قبضے کی جنگ ہوگی۔ امریکی فوج کےترجمان کے مطابق عراقی اور امریکی افواج نے لڑائی کے دوسرے دن فلوجہ شہر کے شمالی حصہ پر قبضہ کر چکی ہے۔ شہرکے مشرقی اور شمال مغربی حصوں میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور امریکی افواج شہر کے مرکز میں داخل ہو گئی ہیں۔ شہر کا آسمان دھماکوں اور شعلوں سے بار بار چمک اٹھتا ہے اور جنگ کے دھماکوں سے عمارتیں لرز رہی ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق امریکی فوجیوں نے شہر کی مرکزی شاہراہ عبور کر لی ہے۔ عراقی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ کارروائی منصوبے کے مطابق جاری ہے تاہم انہوں نے کہا کہ مزاحمت توقع سے کم ہوئی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں روپوش دہشت گرد فرار ہو گئے ہیں اور امریکی اور عراقی فوجیوں کی کوشش ہے کہ شہریوں کو کم سے کم نقصان ہو۔ دریں اثنا عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کے ایک کزن کو ان کے اہل خانہ کے ہمراہ بغداد میں اغوا کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق منگل کی رات الا عبدالمجید علاوی کے گھر پر ایک مسلح گروہ نے حملہ کیا اور ان کی اہلیہ اور بہو کے ہمراہ اغوا کرلیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||