عراق، پرتشدد واقعات کی لہر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں مذہبی اہمیت کے حامل شہروں نجف اور کربلا کے درمیان واقع خان ال نس نامی قصبے میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں تین عراقی شہری ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ ادھر بغداد میں پُرتشدد واقعات بدستور جاری ہیں۔ ان واقعات کے دوران ایک مسلح شخص نے بغداد یونیورسٹی کے سکول آف ڈنٹسٹری کے ڈین یا سربراہ حسن الرباعی کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ اپنی گاڑی میں سوار دریائے دجلہ کے کنارے کہیں جا رہے تھے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد واضح نہیں ہو سکا البتہ عراق کے متعدد دانشوروں کو ان کے سیاسی نظریات اور انتظامی فیصلوں کے نتیجے میں ہلاک کیا یا دھمکایا جا چکا ہے۔ ایک اور واقعہ میں صوبہ دیالا کے گورنر اپنی گاڑی کے قریب سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے کے باوجود محفوظ رہے جبکہ بعقوبہ اور بغداد کے دریان واقع شہر خان بنی سعد کے قریب ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں چار محافظ زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جمعہ کو بغداد میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب آٹھ ہو گئی ہے۔ یہ دھماکہ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کے دورہ بغداد کے اختتام کے چند گھنٹے بعد ہوا تھا۔ اس واقعہ کے سبب متعدد افراد زخمی اور مغربی ضلع منصور میں واقع کئی گھر منہدم ہو گئے تھے۔ امدادی کارکن ملبے میں دب جانے والوں کو نکالنےکی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر موصل شہر کے نواح میں منگل کو امریکی فوجی اڈے پر کیے گئے خودکش حملے کے بعد امریکی فوج نے علاقے سے چونتیس افراد کو گرفتار کرنے کے علاوہ گاڑی میں نصب ایک بم کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔ امریکی کمان نے ایک سینیئر فوجی افسر بریگیڈیئر جنرل رچرڈ فارمیکا کو اس معاملے کی چھان بین کے لیے نامزد کر دیا ہے کہ حملہ آور بمبار فوجی اڈے میں کیسے داخل ہوا؟ بغداد کے قریب واقع جیل ابو غریب میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قیدیوں کے ساتھ کی گئی بدسلوکیوں کے معاملے کی چھان بین بھی بریگیڈیئر جنرل رچرڈ فارمیکا ہی نے کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||