BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’یہ فرقہ وارانہ تشدد کی کوشش ہے‘
 عراق
پولیس کے مطابق کربلا کا دھماکہ ایک خود کش حملہ تھا
عراق میں شیعہ رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ روز کے کار بم دھماکوں کے ذمہ دار سنی شدت پسند ہیں۔ نجف اور کربلا میں ہونے والے ان دھماکوں میں کم از کم ساٹھ افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے گئے تھے۔

اہلِ تشیع کے سب سے بڑے آیت اللہ محمد سعید الحاکم کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے اگلے ماہ کے انتخابات سے قبل شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد بڑھکانے کی ایک کوشش ہے۔

عراق کے مقدس شہر نجف میں حضرت علی کے روضے کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے میں اڑتالیس افراد ہلاک جبک نوے زخمی ہوئے۔

دھماکے کی جگہ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

شیعوں کے دوسرے مقدس شہر کربلا میں بھی ایک خود کش کار بم دھماکہ ہوا جس میں بارہ افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکہ ایک بس اڈے پر اس وقت ہوا جب بارود سے بھی ایک کار نے پولیس بھرتی کے ایک مرکز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ سڑک کے بند ہونے پر حملہ آور نے کار بس اڈے میں لے جا کر اڑا دی۔

دھماکے سے پانچ کاریں اور دس بسیں تباہ ہو گئیں اور علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔ زخمیوں کو ایمبولنس کے ذریعے ہسپتال لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر تیس منٹ پر ہوا۔یہ کربلا میں پانچ دن میں ہونے والا دوسرا دھماکہ ہے۔

عراقی سیاستدانوں نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں شیعہ اور سنی آبادی میں نفاق پیدا کرنے سازش قرا دیا ہے۔

دریں اثناء نامعلوم حملہ آوروں نے مرکزی بغداد میں فائرنگ کر کے تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق عراقی الیکشن کمیشن سے بتایا جاتا ہے۔

یہ واقعہ حیفہ سٹریٹ میں پیش آیا۔ حیفہ کا علاقہ سّنی شدت پسندوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے انتخابات کو ناکام بنانے کا عہد کر رکھا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نےایک کار پر فائرنگ کی اور اس میں سوار افراد کو کار سے اتار کر گولی مار دی۔حملے کے بعد کار میں آگ لگ گئی۔

عراقی الیکشن کمیشن کے رکن عادل علامی نے کہا ہے کہ ان کارکنان کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں کی شناخت نہیں کی جا سکی ہے اور نہ ہی اس بات کا اندازہ لگایا جا سکا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس کے نمائندوں نے کلاشنکوف سے مسلح شدت پسندوں کو سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کر کے گاڑیوں کی تلاشی لیتے ہوئے دیکھا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد