بغداد: خود کش حملہ، سات ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں ایک امریکی فوجی ناکے پر حملے میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کی گرفتاری کو ایک سال مکمل ہونے کے مو قع پر ہوا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز انبار صوبے میں ایک حملے میں آٹھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ حالیہ دو ماہ کے دوران ایک روز میں پہلی بار اتنی تعداد میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ فلوجہ بھی انبار صوبے میں واقع ہے۔ گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران امریکہ نے فلوجہ میں فضائی حملے کیے ہیں اور وہاں سے امریکی فوجیوں اور مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعت ملی ہیں۔ عراق کے عبوری صدر غازی الیاور نے عراق میں سلامتی کی بدستور خراب صورتحال کے بارے میں کہا کہ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کی سیکیورٹی فورس کو ختم کرنا ایک غلطی تھی جو تشدد کے واقعات جاری رہنے کی وجہ بنی۔ غازی الیاور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورس کے خاتمے سے ایک خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ انتخابات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ وقت پر ہی ہوں گے۔ انہوں نے ایران اور شام پر تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ دونوں ملک سرحد پار کر کے عراق میں داخل ہونے والے مزاحمت کاروں کی مدد کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تازہ ترین خود کش حملہ گرین زون کہلانے والے اس احاطے کے چیک پوائنٹ پر ہوا جہاں عراقی حکومت اور سفارتکاروں کے دفاتر ہیں۔ امریکی فوج کے کرنل جیمز ہٹن نے کہا کہ اس حملے میں چار کاریں تباہ ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں بین الاقوامی فوج کا کوئی اہلکار ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||