صدام: جیل میں ایک سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہت کم عراقی اس تصویر کو بھول پائیں گے جو آج سے ٹھیک ایک سال پہلے ان کی ٹی وی سکرینوں پر نظر آئی تھی۔ ایک بوسیدہ اور پریشان حال صدام حسین کی تصویر۔ پیر کو عراق کے سابق صدر کی گرفتاری کو پورا ایک سال مکمل ہو گیا۔ وہ اپنے آبائی شہر تکریت میں ایک زیر زمین پناہ گاہ میں چھپے پائے گئے تھے۔ جب وہ گرفتار ہوئے تو ان کا حلیہ کافی خراب تھا۔ ان کے کپڑے گنجلے ہوئے تھے، داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور چہرے سے بے چارگی جھلک رہی تھی۔ لوگوں کی توقعات کے بر عکس انہوں نے گرفتاری کے وقت مزاحمت بھی نہیں کی۔ جس شخص کے نام سے اکثر لوگوں کے دل خوف کانپ جاتے تھے گرفتاری کے بعد بھیگی بلی بنا اپنے سر کے بالوں اور دانتوں کا معائنہ کروا رہا تھا۔ امریکیوں نے اس وقت خوشی کے نعرے لگائے کہ اب عراقی مزاحمت کی کمر ٹوٹ جائے گی اور وہ گھٹنے ٹیک دے گی۔ لیکن ان کی یہ امید غلط ثابت ہوئی۔ صدام حسین کی گرفتاری کے بعد جتنے امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اتنے ان کی گرفتاری سے پہلے بھی نہ ہوئے تھے۔اور مزاحمت کاروں نے عراق کے کئی شہروں پر قبضے کئے۔ ان سے جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔ صدام حسین کو ایک خفیہ مقام پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ سنا ہے کہ انہیں امریکی مفن بہت پسند ہیں اور وہ آجکل شاعری لکھنے میں مصروف ہیں۔ عراقی افسر کہتے ہیں کہ انہیں روزانہ ایک سگار بھی دیا جاتا ہے۔ اور یہ خبر غلط ہے کہ وہ بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ ان پر ابھی تک مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ جولائی میں وہ کچھ دیر کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تھے لیکن اس وقت سے ان پر مقدمہ چلانے کے لیے ذمہ دار خصوصی ٹرائبیونل کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ عراق میں ملنے والی اجتماعی قبروں میں سے صرف ایک ایسی ہے جسکا ثبوت حاصل کرنے کی نظر سے صحیح طرح معائنہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف عراق کے علاوہ دنیا بھر کے چودہ مزید ملکوں میں رہائش پذیر عراقیوں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت دینے کے لیے پولنگ سٹیشن بنانے کا ایک پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ ان ممالک میں امریکہ ۔ برطانیہ اور اردن شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||