BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 December, 2003, 15:09 GMT 20:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کمزور پتوں کے جواری

صدام حسین
ایک دن تو پکڑے جانا ہی تھا

صدام حسین کو ایک روز پکڑا ہی جانا تھا۔صرف یہ طے نہیں تھا کہ زندہ گرفتاری ہو گی یا مردہ۔ عراق اور امریکہ میں جو لوگ صدام کی زندہ گرفتاری سے خوش ہیں ا ُن کے پاس خوش ہونے کی خاصی ٹھوس اور معقول وجوہات ہیں۔لیکن جو لوگ غمگین ہیں ا ُن کی اداسی دو وجوہات کے سبب ہو سکتی ہے۔

ان میں سے کچھ لوگوں کا خیال ہوگا کہ صدام حسین نے دنیا کے سامنے اپنا جس طرح کا فولادی امیج بنا رکھا تھا ا ُس کا تقاضا تھا کہ بیٹوں کی طرح انکی بھی لاش ہی سامنے آتی۔ دیگر افسردہ لوگوں کا خیال ہوگا کہ صدام کو زندہ یا مردہ کسی صورت میں گرفتار نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہ اس وقت عراقی مزاحمت کا سمبل بنے ہوئے تھے۔

یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی صدام حسین کے یوں پکڑے جانے پر بہت زیادہ خوش یا اداس ہونے کی ضرورت ہے؟

تکریتی ٹرافی

 امریکہ کو یقیناً اسامہ بن لادن اور صدام حسین کی شکل میں درکار دو میں سے ایک ٹرافی ہاتھ آ گئی جسے جارج بش اپنی صدارتی مہم میں اٹھائے اٹھائے گھوم سکتے ہیں

امریکہ کو یقیناً اسامہ بن لادن اور صدام حسین کی شکل میں درکار دو میں سے ایک ٹرافی ہاتھ آ گئی جسے جارج بش اپنی صدارتی مہم میں اٹھائے اٹھائے گھوم سکتے ہیں۔ لیکن کیا یہ گرفتاری عراقی خودمختاری کو بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی یا اس سے عراق سمیت اردگرد کے علاقے میں مزید نوآبادیاتی پھیلاؤ کے لیے نفسیاتی فضا سازگار ہو گی؟

اگر صدام حسین کی گرفتاری کے باوجود عراق میں جاری مزاحمت کی کمر نہیں ٹوٹتی تو پھر اسکے جاری رہنے کے کیا نئے اسباب پیش کئے جائیں گے؟ دوسری جانب جو لوگ اداس ہیں کیا انکی اداسی کی ذمے دار صدام کی گرفتاری ہے یاخود ان لوگوں کی اپنی سوچ ؟

آخر بار بار ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جو بھی رہنما جذباتیت کے دھارے میں بہہ کر مغرب کے خلاف آواز بلند کرکے اپنا امیج بنانے کی کوشش کرے لوگ اسکے اگلے پچھلے گناہ معاف کر کے ، طرزِ حکومت نظرانداز کرکے اسکے پیچھے لگ لیتے ہیں اور پھر اسکی عظمت کا ایک بڑا سا بت خود ہی تراش کر اس کو پوجنے لگتے ہیں۔ اور جب ایک دن یہ بت اچانک گرتا ہے تو ان لوگوں کی آرزوئیں اور حوصلے بھی فوراً چکنا چور ہو جاتے ہیں اور وہ قسمت کو الزام دینے لگتے ہیں۔

خواہشوں کے مزار

 اس کھیل میں نقصان نہ تو مغرب کا ہے اور نہ صدام حسین جیسی شخصیات کا۔اگر ہے تو ان کروڑوں بھولے لوگوں کا جو جذبات کے بت خانے سے کسی صورت باہر نکلنا پسند نہیں کرتے اور پھر اسی کے ملبے تلے دب کر رہ جاتے ہیں

صدام حسین کو مغرب نے تخلیق کیا تھا اور جب ضرورت نہ رہی تو صدام حسین بھی نہ رہا۔ اگر مغرب کو ایک نیا صدام حسین بنانے کی ضرورت پڑے گی تو اس کے پاس خواہشمند امیدواروں کی ایک طویل قطار موجود ہے۔ اس کھیل میں نقصان نہ تو مغرب کا ہے اور نہ صدام حسین جیسی شخصیات کا۔اگر ہے تو ان کروڑوں بھولے لوگوں کا جو جذبات کے بت خانے سے کسی صورت باہر نکلنا پسند نہیں کرتے اور پھر اسی کے ملبے تلے دب کر رہ جاتے ہیں۔

تاش کے کھیل میں بلف ایک بار چل سکتا ہے دو بار چل سکتا ہے مگر مستقل نہیں جاری رہ سکتا۔ اچھے پتوں کے بغیر بازی کھیلنے کے عادی جواری بہت دیر تک اور بہت دور تک کامیاب نہیں دیکھے گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد