’عراقی فوج کی ضرورت تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری صدر غازی الیاور نے عراق پر حملے کے بعد عراقی فوج اور سکیورٹی نظام کو ختم کر کے خلاء پیدا کرنے پرامریکہ اور برطانیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے غازی الیارو نے کہا کہ عراق پر قبضے کے بعد عراق کی فوج کو ختم کرنا ایک بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے کہا عراق کی فوج میں شامل بے شمار اچھے فوجیوں کو بیک جنبش قلم فوج سے نکال دینا کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں تھا۔ انہوں نے کہا صدام کی حکومت کو ختم کرنا عراقی عوام کے بس کی بات نہیں تھی۔ غازی الیاور نے مزید کہا کہ عراق میں امن و اماں کی خراب صورت حال کے باوجود انتخابات وقت پر ہی کرائے جائیں گے۔ انہوں نے اس انٹرویو میں ایران اور شام پر عراق میں مزاحمت کاروں کی حمایت کرنے یا ان کی کارروائیوں سے صرف نظر کرنے کا الزام عائد کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||