عراق: مزیدامریکی فوجوں پر غور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ عراق میں اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ جنوری میں ہونے والے انتخابات میں رخنہ ڈالنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ امریکہ فوج کے ترجمان جنرل لانس سمتھ نے کہا ہے کہ عراق میں مزید فوج بھیجنے کا حتمی فیصلہ فلوجہ میں جاری آپریشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔ عراق میں امریکہ فوجی کمانڈ کا کہنا ہے کہ فلوجہ میں اس کا آپریشن بہت بڑی کامیابی ہے اور اس کے اثرات آنے والے دنوں میں نظر آنے شروع ہو جائیں گے۔ عراق میں امریکی میرین کے سینئر کمانڈر جنرل جان سیٹلر نے جمعہ کو کہا تھا کہ کہ فلوجہ میں بڑے آپریشن کے بعد مزاحمت کاروں کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور مزاحمت کار بکھر چکے ہیں۔ فلوجہ میں جانی نقصان کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ فلوجہ آپریشن کے دوران بارہ سو سے زیادہ عراقی مزاحمت کاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں اٹھتیس امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ امریکی جنرل لانس سمتھ نے پینٹاگان میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عراق میں امریکی کمانڈروں کے مطابق فلوجہ میں فوجی بہت بڑی کامیابی تھی لیکن وہ ابھی یہ نہیں کہ سکتے کہ کیا واقعی عراقی مزاحمت کاروں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ امریکی فوجی کمانڈر کے مطابق تین سے پانچ ہزار مزید فوجی عراق بھیجے جا سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||