امریکہ: مزید استعفے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے اینٹیلیجنس کےمحکمہ، سی آئی اے، کے دو اعلیٰ افسران نے محکمہ کی قیادت میں حالیہ تبدیلیوں کے خلاف استعفٰی دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والے ڈپٹی ڈائریکٹر سٹیفن کاپس اور ان کے نائب مائیکل سلک کا تعلق سی آئی اے کے اس شعبہ سے تھا جو دنیا بھر میں خفیہ کاروائیاں کرتا ہے۔ محکمہ کے نئے سربراہ، پورٹرگوس، نے کہا ہے کہ دونوں افسران کے مستعفی ہونے سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مسٹر گوس کو صدر بش نے گذشتہ ستمبر میں سی آئی اے کا سربراہ تعنیات کیا تھا اوران کے ذمے محکمہ کی تعمیر نو کا کام لگایا تھا تا کہ گذشتہ سالوں میں سامنے آنے والے ناقص اینٹیلیجنس کےواقعات پر قابو پایا جا سکے۔ یاد رہےگیارہ ستمبراور عراق کے اسلحہ کے پروگرام کے بارے میں سی آئی اے کی رپورٹوں کو خاص طور تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گذشتہ دن مسٹر گوس نے مستعفی ہونے والے افسران کی خدمات کو سراہا اور کہا ’دونوں نے اپنے پیچھے خفیہ آپریشن کی شاندار روایت چھوڑی ہے۔‘ اگرچہ سی آئی اے کے موجودہ ملازمین پر ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات کرنے پر پابندی ہے لیکن محکمہ کے ریٹائرڈ افسران کے مطابق مستعفی ہونے والے افسران اور مسٹر گوس کے درمیان شدید اختلافات تھے۔ بی بی سی کے سیکیورٹی کے نامہ نگار گورڈن کوریرا نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسٹرگوس سخت خیالات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’ سی آئی اے کا سربراہ تعینات ہونے سے پہلے انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ محکمہ اپنے بنیادی مشن کی تکمیل میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔‘ سی آئی اے کے کچھ دیگر ملازمین بھی محکمہ چھوڑ گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید لوگوں کے جانے کی خبر ہے۔ کیاان تبدیلیوں کے بعد سی آئی اے ایک مضبوط ادارے کے طور پر سامنے آئےگا؟ ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس سوال کا جواب شاید اس وقت کسی کے پاس نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||