عراق دھماکے، چھ عراقی فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں دو مختلف بم دھماکوں میں کم از کم عراقی سیکورٹی فورس سے چھ اہکار ہلاک اور چالیس کے قریب افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پہلا کار بم دھماکہ پیر کی صبح عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی کی جماعت کے صدر دفتر کے باہر ہوا جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس دھماکے میں تیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق ایک خود کش حملہ آور نے ایاد علاوی کے دفتر سے چند سو گز کے فاصلے پر ایک چوکی سے گزرنے کی کوشش کی جس میں اس کی کار دھماکے سے پھٹ گئی۔ دھماکے کے وقت وزیر اعظم ایاد علاوی عمارت میں موجود تھے۔ دوسرا دھماکہ بلاد شہر میں ہوا جو بغداد کے شمال میں اسی کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس دھماکے میں عراق نیشنل گارڈّ ز کے چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔ وزیر اعظم ایاد علاوی کی جماعت عراقی نیشنل ایکارڈ جنوری کی تیس تاریخ کو ہونے والے انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کی فہرست کا اعلان کرنے والی تھی جب پارٹی کے دفتر کے سامنے یہ کار بم دھماکہ ہوا۔ اتوار کو بغداد کے شمال میں عراق فوجیوں کو لیے جانے والی بس پر کار بم حملے میں انیس فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے گزشتہ پیر کو ایک شیعہ جماعت کے دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک ہو گئِے تھے۔ دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں اس ماہ کے آخر میں ہونے والے انتخابات سے پہلے مزید پر تشدد واقعات ہو سکتے ہیں۔ یہ حملہ بلاد شہر میں واقع امریکی فوجی بیس کے باہر ہوا۔ مسٹر پاول نے کہا کہ اس طرح کے حملے تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے عراق میں مزاحمت سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط عراقی فوج کی ضرورت پر زور دیا۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بلاد شہر میں ہونے والے دھماکہ حالیہ دنوں میں امریکی اور عراقی فوجیوں پر ہونے والے سب سے سے زیادہ جان لیوا حملوں میں سے ایک تھا۔ عراق میں تیس جنوری کو انتخابات سے قبل مزاحمت کاروں کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ انتخابات کے دوران عراقی پولیس اور نیشنل گارڈ تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||