عراقی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی ایک اہم سنی مسلم جماعت نے تیس جنوری کے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ عراقی اسلامِک پارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابات میں ووٹروں کی وسیع تر شمولیت کے لیے حالات پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ جماعت کے سربراہ محسن عبدالحامد نے عراقی حکام پر تنقید کی کہ ملک میں جاری تشدد کے باوجود وہ انتخابات کرارہے ہیں۔ انہوں نے بغداد میں نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم نے کہا تھا کہ ہم انتخابات میں اسی وقت شرکت کریں گے جب موزوں حالات ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔‘ عراقی اسلامِک پارٹی ان جماعتوں میں شامل تھی جنہوں نے گزشتہ ماہ انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت اس بات پر غور کررہی ہے کہ نیشنل اسمبلی میں ان سنی سیاست دانوں کے لیے سیٹیں خالی رکھی جائیں جن کے حامی تشدد کی وجہ سے ووٹ نہیں دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||