انتخابات کس طرح ممکن ہیں: پوتن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اگلے ماہ عراق میں ہونے والے مجوزہ عام انتخابات پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی سے ماسکو میں ملاقات کے دوران ولادی میر پوتن نے امریکی خارجہ پالیسی پر درپردہ تنقید کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ عراق میں اگلے مہینے کیسے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں جبکہ ملک بیرونی فوجوں کے قبضے میں ہے۔ صدر پوتن اور وزیرِ اعظم علاوی کی ملاقات کو ٹی وی پر دکھایا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر پوتن نے کہا ’میں اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ انتخابات کس طرح منعقد کیے جا سکتے ہیں جبکہ ملک (عراق) پر غیر ملکی فوجوں کا مکمل قبضہ ہے‘۔ تاہم انہوں نے مستحکم عراق کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور امید ظاہر کی کہ روسی کمپنیوں کو بھی عراق کی تعمیرِ نومیں شامل کیا جائے گا۔ بغداد میں تعینات سی آئی اے کے ایک سینیئر اہلکار کے لیک ہونے والے دستاویز میں بھی بغداد کی سکیورٹی کے متعلق بڑی تشویشناک تصویر کشی کی گئی ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ عراق کی سکیورٹی فورسز بڑھتے ہوئے تشدد کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سنی مسلمانوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو تشدد بڑھ جائے گا۔ بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر پوتن کا تبصرہ روس کی اُس خلش کا اظہار کرتا جو یوکرین کے انتخابات میں وہ مغربی مداخلت پر محسوس کررہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||