’انتخابات وقت پر ہوں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکیورٹی کے خدشات اور سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود عراق کی عبوری حکومت نے کہا ہے کہ وہ تیس جنوری کے انتخابات وقت پر کرانے کے اپنے ارادے پر قائم ہے۔ وزیراعظم ایاد علاوی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حکومت عوام سے اپیل کررہی ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں۔ وزیراعظم کے ترجمان کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب سنی مسلم گرہوں اور کردوں کی سیاسی جماعتوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے انتخابات چھ ماہ کے لئے مؤخر کردے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شیعہ برادری کے رہنما عراق میں انتخابات جلد سے جلد کرانے کے حق میں ہیں۔ عراق کی آبادی میں شیعہ برادری کا حصہ ساٹھ فیصد ہے۔ تیس جنوری کے ووٹنگ میں ایک نئی پارلیمان کا انتخاب کیا جانا ہے۔ یہ نئی پارلیمان ایک نئی کابینہ منتخب کرے گی اور ایک نئے مسقتل آئین کا مسودہ تیار کرائے گی۔ سنیچر کے روز بغداد میں امریکی سفیر جان نیگروپونتے غیرمتوع طور پر فلوجہ پہنچے جہاں مزاحمت کاروں کے خلاف امریکی فوج نے شدید کارروائی کی ہے۔ فلوجہ پہنچنے پر امریکی سفیر نے بتایا کہ امریکہ عراق میں جمہوری نظام چاہتا ہے۔ امریکی سفیر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ تیس جنوری کے انتخابات کے لئے مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے گی تاکہ ووٹنگ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی نے بغداد سے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ عراق کی غیر مستحکم سکیورٹی صورتِ حال انتخابات ملتوی کرانے کے مطالبوں کی واحد وجہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال میں کُرد گروپ اس خدشے کا شکار ہیں کہ جنوری میں شمالی علاقوں میں برف پڑے گی جس سے ان کے ووٹر متاثر ہوں گے اور شاید نتیجتاً انتخابات میں ووٹ نہ ڈال سکیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||