عراق: ’التوا پر غور کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے انتخابی کمیشن نے کہا ہے کہ وہ ملک میں انتخابات کے التوا کی درخواست پر غور کرے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انہیں سیاسی جماعتوں کی طرف سے ملاقات کی باقاعد درخواست نہیں ملی۔ عراق کے نائب عبوری وزیر اعظم نے اپنے برطانیہ کے دورے کے دوران کہا کہ وہ وقت پر انتخابات کرانا چاہتے ہیں لیکن یہ ایک چیلنج ہوگا۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے عراق میں امریکہ کے سفیر جان نیگروپونٹے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں سلامتی کی صورتحال انتخابات میں التوا کی وجہ نہیں بننے دی جائے گی۔ انہوں نے فلوجہ کے دورے کے دوران کہا کہ انتخابات کے دوران مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے اور یہ کہ امریکہ کا عراق میں جمہوریت کے قیام کا پختہ ارادہ ہے۔ عراق کے کئی اہم سیاسی گروپوں اور جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ تیس جنوری کو ہونے والے انتخابات چھ ماہ کے لیے ملتوی کر دیئے جائیں۔ دو بڑی کُرد جماعتوں سمیت تقریباً دس گروپوں نے جن میں سابق صدارتی امیدوار عدنان پچاچی کی جماعت بھی شامل ہے اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ عراق کے ان علاقوں میں جہاں سنی اکثریت ہے اور جہاں امریکی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ کے خلاف مزاحمت سامنے آ رہی ہے پہلے ہی انتخابات کے بائیکاٹ کی باتیں کی جا رہی تھیں۔ کئی سنی رہنماؤں نے تو دھمکی دے دی ہے کہ وہ جنوری کے انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ عراق کے عبوری آئین کے مطابق ملک میں انتخابات ہر حال میں جنوری کے آخر میں منعقد ہونے چاہیں۔ انتخابات کا انعقاد کرنے والے عراقی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ عراق کے گروپوں اور سیاسی جماعتوں کے اس مطالبے پر غور کرے گا کہ انتخابات چھ ماہ تک ملتوی کر دیئے جائیں۔ کمیشن کے ایک ترجمان عبدالحسن الہنداوی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کل صبح اس درخواست پر غور کریں گے لیکن یہ بہت پیچیدہ مسئلہ ہے‘۔ عراق کی آبادی کا ساٹھ فیصد شیعہ افراد پر مشتمل ہے اور شیعہ طبقے کے نمائندگان کی خواہش ہے کہ جنوری میں ہونے والے انتخابات ملتوی نہ ہوں۔ بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن ہاؤلی نے بغداد سے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ عراق کی غیر مستحکم سکیورٹی صورتِ حال انتخابات ملتوی کرانے کے مطالبوں کی واحد وجہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال میں کُرد گروپ اس خدشے کا شکار ہیں کہ جنوری میں شمالی علاقوں میں برف پڑے گی جس سے ان کے ووٹر متاثر ہوں گے اور شاید نتیجتاً انتخابات میں ووٹ نہ ڈال سکیں۔ انتخابات کے التوا کا مطالبہ سابق صدارتی امیدوار عدنان پچاچی کے گھر جمعہ کو ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اس اجلاس میں عبوری حکومت کے کم از کم تین وزراء بھی شریک تھے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق نگران وزیرِ اعظم ایاد علاوی کے ایک نمائندے نے بھی اس درخواست پر دستخط کیئے ہیں جس میں انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||