عراق: پچاس مشتبہ افراد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی سکیورٹی فورسز کے مطابق اتوار کو نجف اور کربلا میں ہونے والے دھماکوں کے سلسلے میں پچاس کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ ان طاقتور کار بم دھماکوں کے پیچھے سنّی شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔ عراق کے شیعہ رہنماؤں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن رہیں اور اتوار کو نجف اور کربلا میں ہونے والے ان دھماکوں کا بدلہ لینے کی کوشش نہ کریں جن میں ساٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ عراق کے شیعہ رہنما آیت اللہ محمد بحرالعلوم نے کہا ہے کہ عراق کی اکثریتی شیعہ آبادی اگلے ماہ کے انتخابات میں پرامن طور پر شرکت کرے گی۔ آیت اللہ محمد بحرالعلوم نے اہلِ تشیع سے کہا ہے کہ وہ ہلاکتوں کا بدلہ نہ لیں اور اپنی توجہ انتخابات پر مرکوز رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ شیعہ تشدد کا جواب نہیں دیں گے کیونکہ یہ صرف تشدد کی جانب لے جائے گا اور ہم انتخابات کے بارے میں پر عزم ہیں‘۔ اہلِ تشیع کے اہم رہنما آیت اللہ محمد سعید الحکیم کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والے دھماکے اگلے ماہ کے انتخابات سے قبل شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں کا مقصد’فرقہ واریت کو ہوا دینا‘ تھا اور اللہ متاثرین کا ’بدلہ‘ لے گا۔ مقتدیٰ الصدر کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خانہ جنگی ملک کو جہنم بنا دے گی۔ عراقی حکام نے خبردار کیا ہے کہ تیس جنوری کے انتخابات سے قبل تشدد کے واقعات میں تیزی آ سکتی ہے۔
عراق کی ساٹھ فیصد آبادی اہلِ تشیع سے تعلق رکھتی ہے اور انہیں امید ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں وہ حکومت پر سنّی اقلیت کی اجارہ داری کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ کچھ سّنی رہنماؤ ں نے فلوجہ میں امریکی حملوں کے خلاف احتجاج کے طور پر انتخابات کے بائیکاٹ کی دھمکی بھی دی ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے والے ایک اہم سنّی رہنما عدنان پچاچی نے انتخابات کے ’عارضی التوا‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ’ عارضی التوا سے حالات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی‘۔ عراق کے سابق صدر صدام حسین نے جیل سے جاری کردہ اپنے ایک بیان میں عراقیوں سے کہا ہے کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کردیں اور ’ملک کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی امریکی سازش کو ناکام بنا دیں‘۔ عراق کے مقدس شہر نجف میں حضرت علی کے روضے کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے میں اڑتالیس افراد ہلاک جبکہ نوے زخمی ہوئے۔ یہ لوگ ایک قبائلی سردار کے جنازے میں شرکت کے لیے وہاں جمع تھے۔ شیعوں کے دوسرے مقدس شہر کربلا میں بھی ایک خود کش کار بم دھماکہ ہوا تھا جس میں تیرہ افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||