بغداد میں دھماکہ، 28 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد میں ایک مکان میں زور دار دھماکہ ہوا ہے جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق اٹھائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد اس مکان پر چھایہ مارا تھا۔ اس دھماکے کی وجہ سے تین دوسرے مکان بھی تباہ ہوگئے ہیں۔ یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک روز پہلے ہی دارالحکومت بغداد کے شمال میں مختلف حملوں میں عراقی سکیورٹی فورس کے تیس اہلکار مارے گئے تھے۔ ان حملوں کے بعد آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے بارے میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ادھر اردن کے شدت پسند ابو مصعب الزرقاوی سے وابستہ ایک گروہ نے پیر کے روز اہل تشیع کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے رہنما عبدالعزیز الحکیم کے دفتر پر کیے گئے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ یہ حملہ پیر کے روز کیا گیا تھا جس میں تیرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے تاہم مسٹر الحکیم کو کوئی گزند نہیں پہنچی تھی |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||