عراق:نئی حکومت خود مختار ہوگی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں عبوری لیکن ’خود مختار‘ حکومت کو اقتدار کی منتقلی اگلے ماہ متوقع ہے لیکن کچھ ایسے معاملات ابھی حل طلب ہیں جن سے معلوم ہوگا آیا اس حکومت کے پاس حقیقی اختیارات ہوں گے یا نہیں؟ سب سے بڑا مسئلہ سلامتی کا ہے۔ اگر غیر ملکی افواج جو اُس حکومت کی مرضی سے عراق میں موجود ہوں گی اُس کے کنٹرول میں نہ ہوئیں تو یہ حکومت خود مختاری کے بنیادی عوامل سے بھی محروم ہوگی۔ لیکن یقیناً چھ مہینے کے لئے قائم اس عبوری حکومت کے پاس قانون سازی یا ترمیم کا اختیار تو نہیں ہوگا۔ یہ حکومت دسمبر یا جنوری میں انتخابات تک کام کرے گی۔ ایک اعلیٰ برطانوی اہلکار کے مطابق حقیقی خود مختاری کے لئے ضروری ہوگا کے عراق کی نئی حکومت کو سلامتی کے معاملات میں کردار دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت مثال کے طور پر فالوجہ میں حالیہ حملے جیسے واقعات کو روک سکے گی۔ برطانوی اہلکار نے کہا ’فوج کو یقیناً حملوں کا جواب دینے کی آزادی ہونی چاہیے لیکن کسی بڑی کارروائی سے پہلے حکومت سے مشورہ نہ کرنے سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے‘۔ اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل میں نئی قرارداد پر غور شروع ہو چکا ہے تاکہ اقتدار کی منتقلی کو بین الاقوامی تائید عطا کی جا سکے تاہم اس کے بارے میں رکن ارکان کی مختلف آراء ہیں۔ ایک زیر غور تجویز میں عراقی قومی سلامتی کونسل کی بات کی گئی ہے۔ اس کونسل کی سربراہی ایک عراقی وزیر اعظم کریں گے اور دیگر ارکان میں عراقی وزراء دفاع اور داخلہ، امریکی سفیر اور ایک اعلیٰ امریکی جنرل شامل ہوں گے۔ یہ کونسل غیر ملکی افواج کے لئے رہنما اصول وضع کرے گی لیکن معمول کی کارروائیوں پر اس کا کنٹرول نہیں ہوگا۔ فرانس کا کہنا ہے کہ عراق میں فوج کی موجودگی کے لئے مدت کی حد کا تعین ہونا چاہیے۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کو اگلے برس نئی حکومت کے قیام کے بعد غیر ملکی افواج کی واپسی کی حد مقرر کرنی چاہیے‘۔ فرانس اور دیگر ممالک کے خیال میں کم از کم یہ ضرور واضح ہونا چاہیے کہ عراق میں فوج صرف وہاں کی حکومت کی مرضی سے رُک سکے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||