’صدام عراقیوں کے حوالے ہوں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے معزول صدر صدام حسین کے خلاف شروع ہونے والے مقدمے میں رابطہ کار کے طور پر کام کرنے والے وکیل کے مطابق امریکی افواج ان کو تیس جون تک عراقی اِنتظامیہ کے حوالےکردیں گی۔ وکیل سالم چلابی نے بتایا کہ معزول صدر کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت کے دیگر ارکان طارق عزیز اور علی حسن الماجد کو بھی جنگی جرائم کے مقدمے کے آغاز سے پہلے عراقی انتظامیہ کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔ سالم چلابی نے کویت میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کو اقتدار کی منتقلی سے پہلے ہمارے حوالے کر دیا جائے گا‘۔ چلابی نے جو ملزمان کے خلاف شواہد اکھٹے کرنے کویت گئے ہوئے ہیں کہا کہ مقدمہ اگلے سال کے اوائل میں شروع ہو سکتا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے پی نے سالم چلابی کے حوالے سے بتایا کہ ’صدام حسین سمیت ایک سو افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا‘۔ عراق کے جنگی جرائم کے ٹریبیونل کے لئے جج اور استغاثے کے وکیل نامزد ہو چکے ہیں لیکن کسی کے خلاف الزامات عائد نہیں کئے گئے۔ صدام حسین کو دسمبر میں گرفتاری کے بعد سے جنگی قیدی کی حیثیت سے خفیہ مقام پر زیر حراست رکھا جا رہا ہے۔ اس وقت عراقی تفتیش کار بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے صدام حسین اور ان کے رفقا کے خلاف مقدمات کی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن اس میں کچھ مشکلات بھی درپیش ہیں۔ قانونی ماہرین نے بی بی سی کو بتایا کہ صدام حسین کو صرف ایک خود مختار ملک کے حوالے کیا جا سکتا جس نے جینیوا قراردادوں پر دستخط کئے ہوں۔ سالم چلابی کے مطابق صدام حسین کو سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے لیکن اس وقت عراق میں امریکہ کی اتحادی انتظامیہ کے تحت موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ یہ فیصلہ عراق کی نئی حکومت کو کرنا ہوگا آیا وہ صورتحال جوں کی توں رکھنا چاہے گی یا سزائے موت واپس کی سزا بحال کرے گی جس کا معزول صدر صدام حسین کے دور میں بارہا استعمال کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||