BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 February, 2004, 17:11 GMT 22:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق سے ہتھیار نہیں مل سکے: بش
امریکہ
امریکی صدر جارج بش نے یہ بات تسلم کر لی ہے کہ امریکہ کو عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں مل سکے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے عراق کے پاس اس طرح کے ہتھیار تھے۔

جنوبی کیرولائنا میں تقریر کرتے ہوئے امریکی صدر نے شدت سے عراق پر حملے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے کی ٹیکنالوجی بھی تھی اور وہ یہ ہتھیار استعمال بھی کرنا چاہتے تھے۔

صدر بش نے کہا ’یہ جانتے ہوئے کہ مجھے جنگ سے پہلے کیا معلوم تھا اور اب کیا معلوم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ عراق کے خلاف جنگ کرنے کا امریکی فیصلہ درست تھا۔‘

اس سے پہلے برطانیہ میں وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر عراق کے خلاف جنگ کا ماحول بنانے کے حوالے سے مزید دباؤ میں آئے۔ اور اس مرتبہ دباؤ کی وجہ ان کی حکومت کا یہ دعویٰ تھا کہ عراقی فوج پینتالیس منٹ میں وسیع تباہی کے ہتھیار نصب کر سکتی تھیں۔

برطانوی حزبِ اختلاف کے رہنما مائیکل ہاورڈ نے کہا کہ وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو استعفیٰ دے دینا چاہئے کہ انہوں نے پینتالیس منٹ میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے نصب ہونے دعوے کی وضاحت تک نہیں کی اور برطانوی فوجی میدانِ جنگ میں روانہ کر دئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد