عراق سے ہتھیار نہیں مل سکے: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے یہ بات تسلم کر لی ہے کہ امریکہ کو عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں مل سکے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے عراق کے پاس اس طرح کے ہتھیار تھے۔ جنوبی کیرولائنا میں تقریر کرتے ہوئے امریکی صدر نے شدت سے عراق پر حملے کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے کی ٹیکنالوجی بھی تھی اور وہ یہ ہتھیار استعمال بھی کرنا چاہتے تھے۔ صدر بش نے کہا ’یہ جانتے ہوئے کہ مجھے جنگ سے پہلے کیا معلوم تھا اور اب کیا معلوم ہے، میں سمجھتا ہوں کہ عراق کے خلاف جنگ کرنے کا امریکی فیصلہ درست تھا۔‘ اس سے پہلے برطانیہ میں وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر عراق کے خلاف جنگ کا ماحول بنانے کے حوالے سے مزید دباؤ میں آئے۔ اور اس مرتبہ دباؤ کی وجہ ان کی حکومت کا یہ دعویٰ تھا کہ عراقی فوج پینتالیس منٹ میں وسیع تباہی کے ہتھیار نصب کر سکتی تھیں۔ برطانوی حزبِ اختلاف کے رہنما مائیکل ہاورڈ نے کہا کہ وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو استعفیٰ دے دینا چاہئے کہ انہوں نے پینتالیس منٹ میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے نصب ہونے دعوے کی وضاحت تک نہیں کی اور برطانوی فوجی میدانِ جنگ میں روانہ کر دئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||