’القاعدہ اور صدام سے بڑا خطرہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریے کا آغاز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جہاں عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی برآمدگی میں حکومتی ناکامی زیر بحث ہے وہاں پاکستان میں ہونے والے انکشافات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا مجرم ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان پندرہ برس سے ان ملکوں کو جوہری بم بنانے کی ٹیکنالوجی فراہم کرتا رہا جو دہشتگردی کی سرپرستی میں ملوث رہے ہیں۔ اور پاکستان صدر بش کی اس تنبیہ کے بعد بھی ایسا کرتا رہا جس میں انہوں نے ایسے ملکوں کو خبردار کیا تھا کہ ان کے خلاف حفاظتی تدبیر کے اصول کے تحت حملے کیے جا سکتے ہیں۔ اخبار نے بغیر کسی لگی لپٹی کے لکھا ہے کہ اگرچہ بش انتظامیہ صدر مشرف کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حلیف گردانتی ہے تاہم اب انتظامیہ کو یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ پاکستان کی فوجی حکومت نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے امریکہ اور عالمی سلامتی کے لئے القاعدہ اور صدام حسین سے کہیں بڑے خطرات کو جنم دیا ہے۔ اخبار نے صدر بش کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی پھر سے بلیک مارکیٹ میں برائے فروخت نہیں ہوگی انہیں صدر مشرف کے خالی وعدوں سے بہلنے کی بجائے ٹھوس اقدامات کرنا چاہیئں۔ واشنگٹن پوسٹ نے صدر مشرف کو براہ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے بھی امریکہ سے وعدے کیے مگر تمام پورے نہیں کیے۔ بلکہ بعض دفعہ تو انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا۔ اس بارے میں اخبار نے پاکستان کے سامان بردار فوجی طیاروں کی سن دو ہزار دو میں شمالی کوریا آمد کا ذکر کیا ہے اگرچہ صدر مشرف ایسے کسی لین دین کی تردید کرتے رہے ہیں۔ لہذا اب ان کے وعدوں پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کے کسی عالمی معاہدے کا رکن نہیں، مگر اب یہ صورتحال برقرار نہیں رہ سکتی اور امریکہ کا دوست رہتے ہوئے اور امریکی امداد سے فائدہ اٹھائے ہوئے اسے جوہری عدم پھیلاؤ کو یقینی بنانے کے لئے ایسے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے جس کی تصدیق امریکہ یا اقوام متحدہ بھی کرے۔ برطانوی اخبار گارڈین نے پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈاکٹر قدیر ’بہت کچھ جانتے ہیں‘۔ اور اگر انہیں کٹھہرے میں لایا گیا تو جنرل مشرف کے لئے زبردست مشکلات پیدا ہوجائیں گی۔ اخبار لکھتا ہے کہ کئی سفارتکار اور مبصر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ڈاکٹر قدیر نے جن سرگرمیوں کا اعتراف کیا وہ اعلیٰ فوجی حکام کی نظروں سے اوجھل رہی ہوں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ڈاکٹر قدیر کے اعترافی بیان کی خبر کا آغاز ان کی کیفیت کے بیان سے کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ وہ سہمے ہوئے اور شرمسار نظر آ رہے تھے۔ تین منٹ کی تقریر نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے ہیرو کو ایسے شخص میں بدل کر رکھ دیا جو التجا بھری نگاہوں سے رحم کے لئے دوسروں کی طرف دیکھ رہا ہو۔ اخبار لکھتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو ڈاکٹر قدیر کے اعتراف اور معافی سے کوئی سرو کار نہیں ہے بلکہ ان کے لئے تشویش کا باعث یہ مسئلہ ہے کہ ایٹمی پھیلاؤ کو کیسے روکا جائے۔ اخبار کے مطابق بعض امریکی حکام ڈاکٹر خان اور جنرل مشرف کے مابین ’معاملہ‘ طے پانے کی بات کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ لوگ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ معاملہ کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اب امریکی انتظامیہ کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے پاکستان نے ڈاکٹر قدیر کے زیر زمین حلقے سے متعلق جو معلومات حاصل کی ہیں وہ امریکہ کو فراہم کرتا ہے یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||