امریکی فوج پر پھر الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی فوج قیدیوں کو’منظم طریقے‘ سے ٹارچر کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس نے ’قیدیوں کے ساتھ زیادتی کے کئی واقعات‘ درج کئے ہیں جیسے واقعات عراقی قیدیوں کے ساتھ بھی دہرائے جاتے رہے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ واشنگٹن کو بارہا ان مسائل کے بارے میں خبردار کر چکی ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس معاملے کی مناسب چھان بین کر کے لوگوں کو آگاہ نہیں کیا جاتا تو افغانستان میں موجود امریکی فوج پر لوگوں کا اعتماد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو نیند سے محروم رکھا گیا، بری طرح مارا پیٹا گیا، انہیں انتہائی کم درجہ حرات میں رکھا گیا اور انہیں برہنہ کر کے تصاویر بنائی گئیں۔ ایک افغانی پولیس افسر نے الزام لگایا تھا کہ دو ہزار تین میں قید کے دوران اسے ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا تھا جس پر امریکہ نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کرے گا جس کے ایک روز بعد ہیومن رائٹس واچ نے اپنا حالیہ بیان جاری کیا ہے۔ مارچ میں تنظیم کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں قائم امریکی حراستی نظام نے بین الاقوامی قانون کی مخالفت کی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں تین قیدیوں کی ہلاکت کی ’وضاحت‘ اب بھی کرنی ہے۔ تنظیم کا اصرار ہے کہ متعلقہ تفصیلات فوری طور پر جاری کی جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||