| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’طالبان پھر نہیں ابھر سکتے‘
افغان صدر حامد کرزئی نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ملک کے جنوب مشرق میں طالبان قوت زور پکڑ رہی ہے۔ دارالحکومت کابل میں بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان انفرادی طور پر افغانوں، غیر ملکیوں اور خود ان کے لئے تو خطرہ ہو سکتے ہیں، تاہم ملکی استحکام اور سیاسی عمل کو طالبان سے کوئی خطرہ نہیں۔ چند روز قبل اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ملک کے جنوب مشرقی حصے میں طالبان موجودہ نظام کے عدم مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں۔ حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ انہیں اندازہ ہے کہ اقوام متحدہ نے اپنا عملہ کیوں واپس بلایا ہے۔ تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس کے باوجود ملک میں تعمیر نو کا عمل جاری رہے گا۔ حالیہ امریکی حملوں میں پندرہ افغان بچوں کی ہلاکت پر انہوں نے کہا کہ ان واقعات سے ان پر دباؤ بڑھا ہے۔ حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی فوج سے کہا ہے کہ وہ اکا دکا طالبان کے خلاف فضائی حملے کرنے کی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیں۔ انہوں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ طالبان کو ہٹائے جانے کے اسباب پھر سے افغانوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||