BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 February, 2004, 12:13 GMT 17:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی انتخابات: کون کیا چاہتا ہے
براہیمی
صدر بش اقوام متحدہ کو عراق میں کوئی کردار دینے پر گرن جوش نہیں تھے
لوگوں کی توقعات تو بہت بڑی ہیں، تاہم پیشہ ورانہ اعتبار سے بھی لخدر براہیمی کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔

ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا عراق میں اقتدار کی منتقلی کے لیے انتخابات تیس جون سے پہلے ہو سکیں گے؟ تو یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب سبھی جاننا چاہتے تھے، لیکن وہ اس کا جواب گول کر گئے۔

تاہم اس بات کے کافی اشارے ہیں جن سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی ٹیم کا جھکاؤ کس جانب زیادہ ہے۔

لخدر براہمی کا کہنا تھا کہ وہ کسی مدت کے پابند ہونا نہیں چاہتے، تاہم ان کی کوشش ہے کہ انتخابات کرائے جائیں جس قدر جلد از جلد ممکن ہوں تاہم اتنی جلد بھی نہیں کہ ان کا ہونا ہی ناممکن ہو جائے۔

اپنی خودمختاری کی طرف رینگتے ہوئے عراق کو کسی بھی وقت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ان کے دل کی گہرائیوں میں کہیں یہ سوال بھی ضرور ہو گا کہ اگر قابض اتحاد تیس جون کی ممکنہ تاریخ پر آمادہ ہو ہی جائے تو اقتدار کس کسے منتقل کیا جائے۔

قابض اتحاد کی خواہش ہے کہ اقتدار مقامی عمائدین کی ایک ایسی اسمبلی کو منتقل کیا جائے جو خواص کے منتخب کردہ نمائندوں پر مشتمل ہو۔

عمائدین پر مشتمل اس حکومت کو عبوری حکومت قرار دیا جائے، وہ عراق کے لیے نئے آئین کا مسودہ تیار کرے اور اس کے بعد دو ہزار پانچ میں عام انتخابات کرائے جائیں اور ان کے بعد اقتدار کی حقیقی منتقلی عمل میں آئے۔

اس اتحاد کی رائے ہے کہ تیس جون تک انتخابات کرانا ممکن نہیں ہے۔ عراق کی شیعہ اکثریت کے نمائندے آیت اللہ سیستانی کا کہنا کہ براہِ راست انتخابات موجودہ حلات کا واحد حل ہیں اب فیصلہ امریکیوں کو کرنا ہے کہ براہِ راست انتخابت قابل عمل ہیں یا نہیں۔

اسی صورتحال میں اقوام متحدہ کی مدد لی گئی ہے اور اب اسے مصالحت کاری کے فرائض انجام دینے ہیں۔

لیکن اب تک صورتحال یہ ہے کہ جب سے اقوام متحدہ کی ٹیم نے عراق کا دورہ شروع کیا ہے بغداد کے جنوب میں اسکندریہ کے مقام پر بم دھماکے میں تریپن، بغداد میں ہونے والے خود کش حملے میں چھیالیس اور ہفتے کو فلوجہ میں بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فلوجہ
فلوجہ امریکی اتحاد کے لیے قدرے زیادہ مسائل کا باعث ہے

اس کے علاوہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ابی زید کے بارے میں قاتلانہ حملے میں بال بال بچنے کی خبر بھی آ چکی ہے۔

اب تک کسی نے یہ نہیں کہا لیکن ان واقعات سے یہ تاثر لیا جا سکتا ہے کہ اگر عام انتخابات ہوئے تو پولنگ اسٹیشنوں پر کیا کچھ ہو سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس تاثر کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

اگر اقوام متحدہ کی ٹیم نے براہِ راست انتخابات پر غور کیا تو فیصلے پر اثر انداز ہونے والا یہ عنصر واحد نہیں ہو گا، دیگر عوامل بھی ہوں گے جنہیں پیشِ نظر رکھا جائے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سکریٹری جنرل اقوام متحدہ کیا تجویز کرتے ہیں اگرچہ وہ دو روز قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ براہِ راست انتخابات کی طرف جھکاؤ زیادہ ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد