عراق: ایک ہزار امریکی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ عراق میں مارچ سن دو ہزار تین کے بعد سے ایک ہزار سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے میں عراقیوں کی ہلاکت کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و حالیہ دو دنوں میں ایک درجن سے زیادہ امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے عراق میں امریکی جانی نقصان کا احساس دلایا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق عراق میں بڑھتے ہوئے امریکی جانی نقصان سے ایک بار پھر صدر بُش کے عراق پر حملے کے فیصلے کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں بحث چھڑ جائے گی۔ دریں اثناء بغداد میں صدر سٹی کے علاقے اور فلوجہ میں چھڑپیں جاری ہیں۔ امریکی طیاروں نے بدھ کو پھر فلوجہ شہر میں بمباری کی اور خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طیاروں نے شہر کے صنعتی علاقے پر بم گرائے۔ منگل کے روز امریکی بمباری سے ایک سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی فوج کا کہنا تھا کہ انہوں نے سات امریکی اور تین عراقی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جوابی فائرنگ کی تھی۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق منگل ہی کو بغداد میں صدر سٹی کے علاقے چالیس مزاحمت کار ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ دن دہاڑے دو اطالویوں اور دو عراقیوں کو بھی بغداد سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ پینٹاگون نے منگل کو بتایا گزشتہ اٹھارہ ماہ میں ایک ہزار ایک امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ بدھ کی رات کو ایک اور امریکی فوجی کی ہلاکت کے بعد یہ تعداد ایک ہزار دو تک پہنچ گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں تین غیر فوجی ٹھیکیدار بھی شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||