| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کم کرنے کی تیاری
امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ عراق سے تقریباً پچیس ہزار فوجی واپس بلانے کی تیاری کررہا ہے۔ امریکی فوج کے ایک ترجمان نے ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوجی کمانڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ عراق میں موجود فوجیوں اور فوجی سازوسامان کی تعداد کم کردی جائے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ عراق میں اس وقت ایک لاکھ تیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ پانچ ہزار تک کم کردی جائے گی۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوجی ٹینکوں کی تعداد تین چوتھائی تک کم کردی جائے گی۔ اسی طرح فوجی ہیلی کاپٹروں، راکٹ اور دیگر اسلحہ کی تعداد بھی گھٹا دی جائے گی۔ یہ اعلان عراق کے امریکی منتظم پال بریمر اور اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان کی ملاقات سے قبل کیاگیا ہے۔ یہ ملاقات پیر کے روز متوقع ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس ملاقات میں امریکہ اقوام متحدہ پر زور دے گا کہ وہ عراق میں اقتدار کی منتقلی کے امریکی منصوبے کی حمایت کریں۔ اقتدار کی منتقلی کے لئے یکم جولائی دو ہزار چار کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ دریں اثناء عراق میں برطانیہ کے چیف آف جنرل سٹاف میجر مائیک جیکسن نے کہا ہے کہ عراق میں برطانوی افواج کم از کم موسم گرما تک قیام کریں گی۔ میجر مائیک جیکسن کا کہنا تھا کہ یہ افواج اس وقت تک عراق میں تعینات رہیں گی جب تک یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ عراق خود اپنی سکیورٹی کے فرائض سنبھال سکتا ہے۔ انہوں نے عراق کی سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تشویش نہیں ظاہر کی۔ ہفتہ کے روز عراقی دارالحکومت بغداد کے شمال میں ایک امریکی بکتربند گاڑی پر بم حملے میں تین امریکی فوجی اور محکمۂ شہری دفاع کے دو عراقی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جبکہ بغداد سے تیس کلومیٹر دور تاجی کے قصبے میں ایک مشترکہ گشت کے دوران دو اور امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||