| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’فوجیوں کی ہلاکت قومی سانحہ ہے‘
امریکی وزیر دفاع نے عراق میں امریکی فوجی ہیلی کاپٹر پر حملے میں پندرہ فوجیوں کی ہلاکت کو قومی سانحہ قرار دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ان حملوں سے عراق کی تعمیر نو کا امریکی عزم متزلزل نہیں ہوگا۔ اتوار کے روز فلوجہ کے قریب امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کی تباہی کے نتیجے میں پندرہ امریکی فوجی ہلاک اور اکیس سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ اس ہیلی کاپٹر کو راکٹ سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اپریل میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد کسی بھی واقعے میں ہلاک ہونے والے امریکیوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ امریکی حکام نے ایک اور حملے کی بھی تصدیق کی ہے جس میں امریکی حکام کے مطابق دو امریکی ٹھیکہ دار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔ یہ حملہ بھی فلوجہ کے قصبہ میں کیا گیا۔ ہلاک شدگان امریکی فوج کے انجنیئرنگ کور کے ساتھ کام کرتے تھے۔ فلوجہ میں امریکیوں کے خلاف مزاحمتی سرگرمیوں ان دنوں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ مقامی عراقیوں کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے دو میزائیل داغے گئے اور ہیلی کاپٹر ان میں سے ایک کا نشانہ بنا۔ تاہم امریکی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر غالباً میزائیل سے بچنے کی کوشش کے دوران گر کر تباہ ہوا۔ شِنوک ساخت کا یہ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور ٹی وی پر ایسے مناظر دکھائے گئے جن میں امریکی اہلکار ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکال رہے ہیں۔ اس علاقے کے مکینوں نے صحافیوں کو تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کے حصے دکھائے اور فالوجہ میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا۔ ایک عراقی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’یہ مزاحمت کرنے والوں کی طرف سے ایک نیا سبق ہے، لالچی قابضین کے لئے ایک سبق۔ جب تک وہ ہمارے ملک سے نکل نہیں جاتے وہ کبھی محفوظ نہیں رہیں گے۔‘ بغداد میں امریکی فوجی ترجمان کے مطابق اس حملے میں دو ہیلی کاپٹر نشانہ بنائے گئے جن میں سے ایک گر کر تباہ ہوگیا۔ ترجمان نے کہا کہ شِنوک ساخت کے ان ہیلی کاپٹروں پر کُل ستاون افراد سوار تھے۔ ترجمان نے کہا کہ ’ہیلی کاپٹر کسی نا معلوم ہتھیار سے‘ مار گرایا گیا۔ ہیلی کاپٹر پر سوار فوجی چھٹی پر بیرون ملک جا رہے تھے۔
امریکی فوجی حکام نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ عراق میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے سینکڑوں میزائیل اب بھی موجود ہیں۔ عراق میں امریکہ کے زیر قیادت قابض فوج پر گزشتہ ہفتے سے حملو ں میں تیزی آئی ہے اور اوسطاً روزانہ تیس حملے کئے جا رہے ہیں۔ یکم مئی کو صدر بش کی طرف سے جنگ ختم ہونے کے اعلان کے بعد اب تک ایک سو چھتیس امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ بغداد میں بی بی سی کی نامہ نگار جِل مگِورِنگ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں امریکیوں کے خلاف حملوں میں تیزی کو دیکھ کر اس طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ قابض فوج کے خلاف سرگرم جنگجو اب ایک منظم فورس کی شکل میں ابھر رہے ہیں۔ تازہ ترین حملوں سے صرف ایک روز قبل عراق کے امریکی منتظم پال بریمر نے کہا تھا کہ وہ عراقیوں کو اقتدار کی منتقلی کا عمل تیز کرنے والے ہیں۔ آٹھ روز قبل شمالی قصبے تکریت کے قریب بھی ایک ہیلی کاپٹر پر راکٹ سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں ایک شخص زخمی ہوگیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||