BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 November, 2003, 05:20 GMT 10:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد میں مزید حملوں کا خطرہ
بغداد میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بغداد میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

صدر بش کی طرف سے عراق میں جنگ کے خاتمے کے اعلان کے چھ مہینے بعد آسٹریلیا اور امریکہ نے اپنے باشندوں کو بغداد میں اختتام ہفتہ پر مزید تشدد کے واقعات رونما ہونے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اس ہفتے کے دوران عراق میں تشدد کے واقعات میں درجنوں عراقی شہری ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں اور یہ افواہیں گشت کر رہی ہیں کہ اختتام ہفتہ پر بغداد میں مزید حملے کئے جائیں گے۔

آسٹریلیا اور امریکہ نے بغداد میں موجود اپنے باشندوں کو خبردار کیاہے کہ اتوار کو مزید حملے ہونے کا خطرہ ہے۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس قسم کی افواہیں ماضی میں جھوٹی ثابت ہوئی ہیں لیکن پھر بھی شہر میں خوف ہراس پایا جاتا ہے۔

کچھ عراقیوں کا کہنا تھا کہ اس خطرے کے پیش نظر وہ اگلے چند دنوں تک اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجیں گے۔

بغداد میں جمعہ کو اس وقت امریکہ کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا جب امریکی فوجی چند حملہ آوروں کی تلاش میں ایک مارکیٹ میں داخل ہو گئے۔امریکی فوج پر دستی بموں سے حملے میں دو امریکی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔

تکریت
امریکی فوج نے تکریت میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں

بغداد کے مغربی علاقے میں کشیدگی کے دوران دو عراقی اور ایک چھ سالہ بچہ ہلاک ہو گئے ۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ عراق میں جاری حملوں کے پیچھے سابق صدر صدام حسین کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ سابق صدر صدام حسین کے جنرل عزت ابراھیم الدورئی ان حملوں کو منظم کر رہے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اعلی امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی تھی کہ عراق میں عزت ابراھیم ان حملوں کو منظم کر رہے ہیں۔

تاہم بغداد میں امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے ایک اعلان میں امریکیوں سے اختتام ہفتہ پر انتہائی محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔ اس سے پہلے بغداد میں نامعلوم افراد کی طرف سے پرچیاں تقسیم کی گئی تھیں جن میں عراقی عوام سے اتوار کومزاحمت کا دن منانے کو کہا گیا تھا۔

آسٹریلیا نے اپنے باشندوں سے کہا کہ وہ بغداد کے وسط میں واقع ہوٹل الحمرا سے دور رہیں۔

عام شہری جو غیر ملکیوں کی طرح محفوظ علاقوں میں نہیں رہتے ان افواہوں کی وجہ سے شدیدتشویش کا شکار ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد