| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’نوجوان عراق پہنچ رہے ہیں‘
چھ مختلف ملکوں میں انسداد دہشت گردی کے حکام نے کہا ہے کہ یورپ اور مشرق وسطی کے ملکوں سے بڑی تعداد میں مسلمان نوجوان امریکی فوج سے لڑنے کے لیے عراق پہنچ رہے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انسداد دہشت گردی کے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ مسجدوں اور اسلامی راکز کی نگرانی کرنے والے اہلکاروں اور دہشت گردی کے الزامات میں پکڑے جانے والوں کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ مہینوں میں سینکڑوں مسلمان نوجوان عراق پہنچ گئے ہیں۔ ایک برطانوی افسر نے اخبار کو بتایا کہ عراق میں مسلمان نوجوان کا جمع ہونا کوئی منظم منصوبہ بندی کا حصہ نہیں ہے بلکہ نیا کے مختلف ملکوں سے پرجوش نوجوان اپنے طور پر عراق جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا اب تک عراق میں پکڑے جانے والے زیادہ تر نوجوانوں کا تعلق مشرق وسطی کے ممالک شام، لبنان ، یمن اور شمالی افریقہ کے چند ملکوں سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس ، جرمنی اور سعودی عرب سے بھی کچھ لوگ عراق جا رہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز لکھتا ہے کہ یورپ اور مشرق وسطیٰ سے مسلمان نوجوان اسامہ بن لادن اور دوسرے انتہا پسندوں کے کہنے پر اپنے گھروں کو چھوڑ کر امریکہ کے خلاف عراق میں جاری جنگ میں شمولیت کے لیے جا رہے ہیں۔ خفیہ اداروں کے مطابق گرمیوں کے اختتام سے مسلمان نوجوانوں کی عراق روانگی کی اطلاعات ملنا شروع ہو گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں نوجوان مختلف ملکوں سے عراق جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا ان نوجوانوں کے پیچھے اسامہ بن لادن کا ہاتھ ہے۔ عراق پر امریکی قبضے کے خلاف مسلم دنیا میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے جو کہ برلن میں واقع النور مسجد میں جمعہ کے موقعہ پر بھی محسوس کیا جا سکتا تھا۔ مسجد کے منتظم ڈاکٹر ایزلدین حماد کے مطابق مسجد کے اندر سیاسی گفتگو پر پابندی ہے۔ تاہم مسجد کے باہر ایک اکیس سالہ نوجوان نے جس کا نام احمد تھا کہا کہ لوگ صدام حسین کو پسند نہیں کرتے تھےلیکن وہ عراق پر امریکی قبضے کے بھی خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کے اندر عام طور پر فلسطینیوں اور چیچنیا کے جنگجؤں کے لیے چندہ اکھٹا کیا جاتا تھا لیکن اب لوگ عراق کے لیے بھی امدادی رقوم دے رہے ہیں۔ جرمنی میں ایک اعلی اہلکار نے کہا کہ جرمنی سے بھی لوگ عراق جار ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جرمنی میں ایسے مسلمان موجود ہیں جو جہاد میں حصہ لینے کے لیے دنیا کے دوسرے ملکوں میں جانا چاہتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||