| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’عراقی جنرل حملوں کے پیچھے‘
امریکی کے اعلی فوجی حکام نے کہا ہے کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین کے ایک قریبی معاون عزت ابراھیم الدورئی امریکی فوج پر حملے کرنے والے عراقیوں کی کمان کر رہے ہیں۔ امریکی وزارتِ دفاع کےایک اعلی اہلکار نے کہا کہ یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ عراق میں امریکی فوج پر ہونے والے کچھ حملوں کے پیچھے عزت ابراھیم الدورئی ہیں۔ پینٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی اس بات کا پتا نہیں کہ ان شبہات میں کس حد تک سچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی حکام کو یہ معلومات حال ہی میں شمالی عراق سے گرفتار ہونے والے دو انتہا پسندوں سے حاصل ہوئی ہیں جن کا تعلق انصارالسلام نامی تنظیم سے ہے جس کےرابطے مبینہ طور پر القاعدہ تنطیم سے بھی قائم تھے۔ دریں اثناء امریکہ میں کانگرس کے مذاکرات کاروں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے کہ عراق واشنگٹن سے موصول ہونے والی امدا کا پچاس فیصد ادا کرئے۔ اس تجویز کا مسترد کیا جانا صدر جارج بش کی ایک بڑی سیاسی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ صدر بش نے کہا تھا کہ امریکی کی طرف سے دی جانے والی امداد کے پچاس فیصد حصے کو اگر قرض میں تبدیل کیا گیا تو اس سے عراق پر مزید بوجھ پڑ جائے گا اور عراق کی اقتصادی بحالی کا عمل بھی متاثر ہو گا۔ اس فیصلہ سے کانگرس کے لیے اسی ارب ڈالر کی امداد کی منظور دینے کا فیصلہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔ اس امداد میں عراق میں امریکی فوج کی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے رقم بھی شامل ہے۔ اس تـجویز کے حامیوں کا خیال تھا کہ عراق کو امریکی شہریوں پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے اور اپنی تعمیر نو کے اخراجات تیل کے خزانے سے برداشت کرنا چاہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||