صدام کے بعد کی عراقی فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ٹرٹلز کین فلائی‘ یعنی کچھوے اڑ سکتے ہیں صدام حسین کے 1979 میں اقتدار میں آنے کے بعد عراق سے بیرون ممالک آنے والی پہلی فلم ہے۔ یہ فلم جمعہ سے برطانیہ میں دکھائی جا رہی ہے۔ یہ فلم ایران میں پیدا ہونے والے ایک کرد بہمان گھوبادی نے بنائی ہے اور اس فلم میں ایک عراقی پناہ گزین کیمپ میں بچوں کو دکھایا گیا ہے۔ سین سباسٹیئن فلمی میلے میں اس فلم کو ایک اعلیٰ ایوارڈ مل چکا ہے۔ اس فلم کا مرکزی خیال جنگ ہے کہ کس طرح لوگ اس جنگ میں دھونسے جاتے ہیں جس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ فلم کے ڈائرکیٹر گھوبادی نے کہا کہ جب میں نے جنگ زدہ بچوں کو دیکھا تو جو پہلا تصور میرے ذہن میں آیا وہ کچھوئے کا تھا۔ ان جنگ زدہ بچوں کا ضبط و تحمل بالکل کچھوؤں کے ضبط و تحمل جیسا ہے۔ تاہم اپنے جنگ کے مرکزی خیال کے علاوہ یہ فلم مزاحیہ بھی ہے۔ گھوبادی کہتے ہیں کہ اس کا تعلق میری جڑھوں سے ہے۔ ’کرد برادری بڑی زندہ دل ہے۔ ہم نے اتنی جلا وطن زندگی گزاری ہے کہ ہمیں اب رونا نہیں آتا۔ ہمارے لیے صرف قہقہہ ہی ایک مرہم رہ گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||