’ابھی تشدد ختم نہیں ہوگا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ کا کہنا ہے کہ عراق میں اتوار کے روز ہونے والے انتخابات کے بعد بھی تشدد جاری رہے گا۔ اتوار کو عراق کے اٹھارہ صوبوں میں دو سو پچہتر رکنی عبوری قومی اسمبلی کے لئے ووٹنگ ہوگی۔ رمزفیلڈ نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ووٹنگ کے بعد تھوڑی بہت عدم استحکام کی صورتحال ہوگی لیکن مارچ یا پریل تک نئی حکومت کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ وزیر دفاع رمزفیلڈ جمعرات کو عراق میں متعدد امریکی اور عراقی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد نامہ نگاروں سے بات کررہے تھے۔ جمعرات کو ہی ایک دوسرے واقعے میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں اکتیس امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ دریں اثناء وزارت دفاع میں عراق پالیسی سے منسلک اعلیٰ اہلکار اور رمزفیلڈ کے مشیر ڈگلس فیتھ نے کہا ہے کہ وہ چند مہینوں کے اندر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ پنٹاگون میں ان کا دفتر عراق سے متعلق انٹیلیجنس میں خامیوں کے لئے ذمہ دار ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ عراقیوں کی جرات کی تعریف کرتے ہیں کہ انہوں نے تشدد کے باوجود اتوار کے روز ہونے والی ووٹنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ واشنٹگن میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جارج بش نے کہا: ’میں عراقی شہریوں کی جرات سے متاثر ہوا ہوں۔ میں عراق کی تاریخ میں ایک اہم موڑ دیکھ رہا ہوں۔‘ امریکی صدر نے کہا: ’میں تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ووٹنگ میں حصہ لیں۔ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کریں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||