’اسی ارب ڈالر مزید چاہئیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بش انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ کانگریس سے عراق اور افغانستان میں جاری فوجی آپریشنز کے لیے اسی ارب ڈالر کی اضافی رقم فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ کانگرس سے اسی ارب ڈالر سے زیادہ کی اضافی رقم مانگ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کانگرس 25 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ اب تک 300 ارب ڈالر جنگ پر خرچ کر چکا ہے۔ یہ رقم پینٹاگون کے سالانہ 400 ارب ڈالر بجٹ کے علاوہ ہے۔
ایک امریکی جنرل نے کہا ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار فوجی کم از کم مزید دو سال کے لیے عراق میں رہیں گے۔ عراق میں اس وقت ایک لاکھ پچاس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ پینٹاگون میں بی بی سی کے نامہ نک چائڈ کے مطابق امریکی حکام یہ بات کھلے عام تسلیم کرتے ہیں کہ عراق کے بارے ان کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ صدر بش کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے وعدہ کر رکھا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کو ہر وہ چیز مہیا کریں گے جس سے وہ اپنے جان کی حفاظت کرتے ہوئے اپنے مشن کو مکمل کریں جس کے لیے ان کو وہاں بھیجا گیا ہے۔
عراق کے لیے مزید رقم کی بات کافی عرصے سے چل رہی تھی لیکن صدر جارج بش نے انتخابات سے پہلے اس اضافی رقم کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||