BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 May, 2004, 06:13 GMT 11:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی سفارتکاروں کی بش پر تنقید
بش
ایریئل شیرون کے لیے بش کی حمایت کو ایک ’ڈھیٹ اقدام‘ قرار دیا گیا ہے
امریکہ کے تقریباً پچاس سابق سفارتکاروں نے صدر بش کے نام ایک خط میں مشرق وسطٰی کے لیے امریکی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

یہ اسی طرز کا خط ہے جیساکہ پچاس سے زائد برطانوی سابق سفارتکاروں نے گزشتہ ہفتے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے نام لکھا تھا۔

سابق امریکی سفارتکاروں نے شکایت کی ہے کہ صدر بش کے موقف کی وجہ سے امریکی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون کے لیے بش کی حمایت کو ایک ’ڈھیٹ اقدام‘ قرار دیا ہے۔

ان سفارتکاروں میں سے چند کا تعلق امریکہ کے ایجوکیشنل ٹرسٹ سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ مشرق وسطٰی سے متعلق شیرون کے منصوبے کے لیے صدر بش کی حمایت پر وہ تشویش کا شکار ہیں جس سے فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس متوقع ہے جس میں یہ سفارتکار اپنے موقف کو عام لوگوں تک پہنچائیں گے۔

ایجوکیشنل ٹرسٹ نے پیر کے روز کہا تھا کہ اس خط کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ خط پر دستخط کرنے والے تمام ارکان ہی اس بات پر متفق تھے کہ امریکی حکومت ایک بڑے خطرے کی طرف رواں دواں ہے۔

انہوں نے کہا ’ہمیں امید ہے کہ دونوں سیاسی جماعتیں اس مسئلے پر توجہ مرکوز کریں گی اور تجربہ کار سفارتکاروں کی آواز سنی جائے گی‘۔

خط میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ’شیرون کی جانب سے فلسطینیوں کی غیر قانونی ہلاکتوں کے لیے بش کی ڈھیٹ حمایت، برلن کی طرز پر اسرائیلی فصیل کی تعمیر، قابض علاقوں میں اسرائیل کی سخت فوجی پالیسی اور اب شیرون کے نئے منصوبے کے لیے بش کی حمایت کی قیمت بہت زیادہ ہے اور یہ ہمیں امریکہ کی ساکھ اور دوستانہ ممالک سے اچھے تعلقات پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کررہی ہے‘۔

سفارتکاروں نے برطانوی سفارتکاروں کی جانب سے بلیئر کے نام ایسے ہی ایک خط لکھے جانے کی تعریف کی۔ ’ہمیں خوشی ہے کہ انہوں نے یہ اقدام کیا اور ٹونی بلیئر سے کہا کہ وہ امریکی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کے لیے امریکہ پر زور دیں‘۔

سابق امریکی سفارتکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کرنے کا کام اینڈریو کلگور نے سر انجام دیا جوکہ قطر کے لیے امریکی سفیر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے صدر بش سے کہا کہ وہ شیرون کے نئے منصوبے کے لیے اپنی حمایت واپس لیں۔

انہوں نے کہا ’صدر بش کو فلسطینیوں کا یہ حق نہیں چھیننا چاہیے کہ وہ اپنے علاقوں میں واپس آباد ہوسکیں یا پھر شیرون کو یہ حق نہیں دینا چاہیے کہ وہ غزہ میں بستیوں پر قبضہ کریں جس سے فلسطینی اپنے ایک بڑے علاقے سے محروم ہوجائیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ایک الگ فلسطینی ریاست کا امکان رد ہوتا نظر آتا ہے۔

کلگور نے کہا کہ یہ خط اسرائیل اور فلسطین سے متعلق ہے اور اس میں عراق کی صورتحال پر بھی بات کی گئی ہے۔

’عراق میں اگر کچھ ہوا ہے تو یہ کہ عراق کی صورتحال اب پہلے سے بھی ابتر ہے‘۔

ولیم روجرز جوکہ امریکہ کے اقتصادیات کے نائب وزیر داخلہ رہ چکے ہیں، کہتے ہیں ’ہم اب اچھے لوگ نہیں رہے اور ہمارے خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچ رہا ہے‘۔

ابھی تک وائٹ ہاؤں سے کوئی رد عمل جاری نہیں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد