بش، چینی تفتیشی کمیشن کے سامنے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش اور نائب صدر ڈک چینی جمعرات کو گیارہ ستمبر کے حملوں کےسلسلے میں قائم کیے گئے تفتیشی کمیشن کے سامنے پیش ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس کے اندر ہونے والی اس نجی کارروائی کے دوران دونوں صدور سے کوئی حلف نہیں لیا جائے گا اور نہ ہی اس کارروائی کی ریکارڈنگ ہوگی۔ مسٹر بش نے کہا کہ ’میں اس موقع کی راہ دیکھ رہا تھا کہ تفتیشی کمشنر کب ہم دونوں سے اس سلسلے میں سوال جواب کریں‘۔ ناقدین کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے سخت ضوابط سے لگتا ہے کہ مسٹر بش اس کارروائی میں اتنی راست گوئی سے کام نہیں لیں گے جتنا کہ وہ ظاہر کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گیارہ ستمبر کے ان حملوں میں اسامہ بن لادن کی القاعدہ تنظیم نے اغوا کردہ دو جہازوں کو نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرا کر تقریبا تین ہزار افراد کو ہلاک کیا تھا۔ پچھلے مہینے صدر بش کےانسداد دہشت گردی کے سابق سربراہ ڈک کلارک نے کہا تھا کہ صدر بش کے لیے القاعدہ اتنا بڑا چیلنج نہیں تھی جتنا کہ سابق صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ اس بارے میں سنجیدہ تھی۔ وائٹ ہاؤس اب تک اس سلسلے میں یہ کہتا آیا ہے کہ اس کے پاس القاعدہ کے ان حملوں کی کوئی باقاعدہ معلومات قبل از وقت موجود نہیں تھی۔ ماہرین کے مطابق پانچ ڈیموکریٹس اور پانچ ہی ریپبلیکن اراکین پر مشتمل یہ کمیشن صدر بش سے اسی بارے میں پوچھ گچھ کرنے والا ہے کہ وہ مسٹر کلارک کی گواہی کے روشنی میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں کیا جانتے تھے اور اس بارے میں کیا حکمت عملی اختیار کرنے والے تھے۔ تفتیشی کارروائی کے پورے ہونے پر کمیشن اپنی حتمی رپورٹ جولائی کے اواخر میں مکمل کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||