BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 April, 2004, 23:04 GMT 04:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ صومالیہ تا عراق

News image
موغودیشو میں کارروائی کے لیے جاتے ہوئے ہیلی کاپٹر اور گاڑیاں
کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے۔ میں دفتر سے گھر پہنچا اور کھانے سے پہلے ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا۔ ٹی وی پر ایک فلم دکھائی جا رہی تھی۔ یہ فلم کسی جنگ کے بارے میں تھی۔

جنگ اگرچہ میری دلچسپی کا موضوع نہیں ہے لیکن پھر بھی فلم نے میری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ کیونکہ سکرین پر پوری طرح مسلح امریکی فوجی سیاہ فام اور بظاہر افریقی دکھائی دیتے لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہے تھے جن میں سے بہت کم افراد جدید اسلحہ سے مسلح تھے۔

میرا خیال ہے کہ جنگ جہاں بھی ہو جیسی بھی ہو اور جب بھی ہو ہم اس سے لا تعلق نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ بیک وقت ولولہ بھی پیدا کرتی ہے اور نفرت بھی، اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے بھی ہم نفرت یا ولولے میں سے کسی ایک کی زد میں ضرور ہوتے ہیں۔اعلان اور اعتراف اس لیے نہیں کرتے کہ شاید ہماری مصلحت کوشی آڑے آ جاتی ہے۔

مذکورہ فلم بلیک ہاک ڈاؤن تھی۔ ڈائریکٹر رڈلے سکاٹ نے نوے منٹ کی یہ فلم مارک باؤڈن کی اس مقبول کتاب پر بنائی ہے جس میں تمام کہانی حقیقی واقعات پر منبی ہے۔

ان واقعات کا آغاز اکتوبر انیس سو تیرانوے کے پہلے ہفتے کے وسط میں اس وقت ہوا جب امریکی فوجیوں کے ایک چھوٹے سے یونٹ نے صومالیہ کی خانہ جنگی میں شریک ایک گروہ کے دو ارکان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا۔

امریکی فوجی رینجرز اور ڈیلٹا فورس سے تعلق رکھنے والے یہ فوجی ہلکی فوجی گاڑیوں کے ساتھ موغادیشو کے ایک خاص علاقے البقرء میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتارے گئے تا کہ وہاں ایک عمارت میں موجود خانہ جنگی میں مصروف جنرل عدید کی دو لیفٹیننٹوں کر گرفتار کر کے لے جانے کے سیدھے سادے مشن کی تکمیل کر سکیں۔

اس یونٹ کی کمان میجر ولیم کے ہاتھ میں تھی جب کہ اس یونٹ کے سربراہ تھے سٹاف سرجنٹ میٹ ایورس مین۔ ایورس مین کا محاذ جنگ میں کسی یونٹ کی قیادت کا یہ پہلا براہ راست تجربہ تھا اور وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ یہ مشن بھی پورا کریں اور اپنے یونٹ کے تمام ارکان کو زندہ و سلامت واپس بھی لے جائیں۔

تاہم حالات تو عام زندگی میں بھی کسی کی خواہشات و توقعات کا احترام نہیں کرتے اور جنگ میں تو تمام تر منصوبہ بندی کے باوجود اس کی امید نہیں کی جاتی۔

News image
صوملیوں کا نشانہ نببے والا ہیلی کاپٹر

تقریباً یہی کچھ اس امریکی یونٹ کے ساتھ بھی ہوا پہلے فوجی کے ہیلی کاپٹر سے گر کر زخمی ہوتے ہی حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے اور جب صومالیوں نے دو امریکی ہیلی کاپٹر بھی مار گرائے تو پورا یونٹ بکھر کر رہ گیا اور صومالیوں کی گرفتاری کی جگہ صورتِ حال یہ بن گئی کہ یونٹ کے ارکان کو نکالا کیسے جائے۔

جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے یہ واقعہ انیس سو تیرانوے کا ہے اور اس پر فلم غالباً دو ہزار ایک میں بنی۔ روایت کے مطابق اتنے عرصے بعد اس فلم پر یا اس کی فلم سازی، ہدایت کاری و اداکاری یا اس کے دوسرے شعبوں کا بطور فلم یا فن جائزہ لینا مقصود نہیں ہے۔

اس فلم میں ایک پسماندہ ملک کا ایک شہر، آپ خود تصور کر سکتے ہیں موغادیشو، گرد اور گندگی سے اٹّا، کچی سڑکیں، چھوٹی چھوٹی عمارتیں، اپنے شہر جیسی اداس آنکھوں والے بچے، بوڑھے، جوان اور عورتیں اور خوف و دہشت سے بھری گلیوں میں جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے کتے اور بلیاں اور دوسرے جانور۔ ان کا پیچھا کرتے اور ان پر گولیاں برساتے ہیلی کاپٹر اور جدید ترین اسلحے سے لیس انتہائی تربیت یافتہ امریکی فوجی۔

اس فلم کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اس میں کسی ایک کردار کو بطور ہیرو یا کسی گروہ کو جیسا کہ جنگی فلموں میں کیا جاتا ابھارا نہیں گیا بلکہ درجن یا ڈیڑھ درجن بھر لوگوں کا یونٹ جو آخر تک ایک سو تیئس فوجیوں تک جا پہنچتا ہے اپنا اپنا کردار ادا کرتا ہوا کیمرے کے سامنے سے گزرتا ہے اور فلم سازی کا یہ انداز کیمرے کے لینس کو گزرتے ہوئے وقت میں تبدیل کر دیتا ہے۔

News image
جیسے ہی امریکی حملے کی خبر پہنچی ّائر جلا کر آشمان دھواں دھواں کر دیا گیا

اگرچہ فلم میں حقیقت پسندانہ انداز کو سامنے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کوئی نعرے بازی نہیں کی گئی تاہم اس کے باوجود گولیاں چلنے اور فوجیوں کے زخمی ہونے کے مناظر اس طرح دکھائے گئے ہیں جیسے کیمرے آنکھ کو بھی صرف امریکی فوجیوں ہی کی فکر ہو۔

ایک منظر میں ایک فوجی کا پورا نچلا دھڑ بالائی دھڑ سے الگ ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور کیمرہ انتہائی قریب اس کی تفصیل کو اس طرح دکھاتا ہے کہ رونگٹے کھڑے ہوتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ ایک اور منظر میں ایک فوجی کو زمین پر پڑی اپنے ایک ساتھی کی کلائی اٹھا کر اپنے تھیلے رکھتے ہوئے اس طرح دکھایا گیا ہے کہ کہ منظر دیر تک ذہن پر ٹھہر کر رہ جاتا ہے۔ ایک اور منظر میں جسم کے مختلف حصوں کر جسم سے الگ ہوتے اور اڑ کر دور جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور اس طرح کہ ایک ایک عضو الگ الگ دور ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

یہ گرافک فوٹو گرافی کا بھی کمال ہو گا لیکن اس فلم کو ایوارڈ ایڈٹنگ پر دیا گیا تھا۔

اس کارروائی میں صرف انیس امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے جب کے ایک ہزار صومالی مارے گئے تھے لیکن تمام مناظر صرف امریکی فوجیوں ہی کے ہیں۔

میں نے یہ فلم اپنی بیٹی کے ساتھ دیکھی اور فلم کے دوران اس نے کئی بار انتہائی اضطراب کے ساتھ مجھ سے پوچھا: ’ابّا کیا عراقیوں کے ساتھ بھی امریکی یہی کر رہے ہوں گے؟

یہ تو اسے بھی علم تھا کہ صومالیہ میں یہ کارروائی انیس سو تیرانوے کے اوائل میں کی گئی تھی اور اب دو ہزار چار ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی اور مہارت دونوں میں دس سال نے کیا فرق نہیں ڈالا ہو گا۔

News image
فلم کے ڈائریکٹر رڈلے سکاٹ اپنی اہلیہ کے ساتھ

عراقی صومالیہ کے نہیں ایک شکست خوردہ مقبوضہ ملک کے شہری ہیں اور امریکی اور ان کے اتحادی فاتح قابص فوج کے ارکان۔ یہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بڑا فرق یہ ہے کہ عراقی وسائل پر عراقیوں کو نہیں قابض افواج کو دسترس حاصل ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ بلیک ہاک ڈاؤن کی طرح دنیا کو صرف وہ تصویر دکھائی جا رہی ہے جو امریکہ چاہتا ہے۔

عراقی شہر فلوجہ میں امریکی فوجیوں کا نشانہ بننے والے ان عراقیوں کی تعداد تین سو سے زائد تھی جو موت کا نشانہ بننے سے پہلے ہسپتال تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جو ہسپتال بھی نہیں پہنچ سکے وہ تعداد اس کے علاوہ ہے۔

امریکہ و برطانیہ اور اس کے اتحادی عراق پر اس لیے حملہ آور ہوئے تھے کہ عراقیوں کو صدام کی آمریت سے نجات دلا کر جمہوریت، آزادی اور آزادئی اظہار دلا سکیں۔

لیکن اس دوران خود امریکیوں کو حاصل آزادی اور آزادئی اظہار کا یہ عالم ہے کہ وہ عراق میں ہلاک ہونے والوں اپنے ہم وطنوں کی نہ تو تفصیلات جان سکتے ہیں اور نہ ہی تدفین کی رسومات دیکھ سکتے ہیں۔

جواز یہ دیا جاتا ہے کہ اس سے رائے عامہ متاثر ہو گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر اپنے لوگوں کو حقیقت نہ بتانا اور حقیقت چھپا کر یا حقیقت ظاہر کرنے پر پابندی لگا کر الیکشن جیتنا ہی جمہوریت ہے تو پھر صدام انتظامیہ اور بش انتظامیہ میں کیا فرق ہے؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد