’امریکی پالیسی پر بلیئر کا اثر ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے ایک سینیئر وزیر نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے امریکہ کے صدر بش کی مشرقِ وسطی کی پالیسی میں اپنا کافی اثر و رسوخ استعمال کیا ہے۔ مائیک او برائن برطانوی وزیرِ اعظم کے امریکی صدر بش کے ساتھ تعلقات اور ان کی عراق اور اسرائیل پر حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے 50 سابق برطانوی سفارتکاروں کے خط کا جواب دے رہے تھے۔ سفارتکاروں نے ٹونی بلیئر سے کہا تھا کہ یا تو وہ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پر ’ڈوبتی ہوئی‘ پالیسی پر اثر انداز ہونا شروع کر دیں یا پھر وہ اس کی پشت پناہی چھوڑ دیں۔ سفارتکاروں نے کہا تھا کہ وہ شدید تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح برطانیہ عراق اور اسرائیل پر امریکہ کی پالیسی اپنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیئے۔ مائیک او برائن نے کہا کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جہاں ٹونی بلیئر نے ’خاموش سفارتکاری‘ سے امریکی پوزیشن پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ نے سفارتکاروں کی تنقید کا یہ کہہ کر دفاع کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور عراق میں مقاصد ’استحکام، امن اور آزادی‘ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||