’امریکہ کی حمایت کرتے رہیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے عراق میں جاری مزاحمت کو دبانے کے لیے اتحادی فوجیوں کی کوشش کو تاریخی جہدوجہد قرار دیتے ہوئے اس کو دبانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ برطانوی اخبار ’دی اوبزرور‘ میں وزیراعظم کا ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر عراق میں اتحادی فوجیں ناکام ہوگئیں تو آزادی اور مذہبی رواداری کی امید بھی دم توڑ جائیں گی۔ انہوں نے عراق میں جاری مزاحمت کو عام بغاوت یا خانہ جنگی ماننے سے انکار کرتے ہوئے صدام حسین کے حامیوں کو موجودہ تشدد کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ٹونی بلیئر جو آج کل برمودہ میں چھٹیاں گزار رہے ہیں کہا کہ وہ امریکہ کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مغرب میں جنگ مخالف لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہماری مشکلات پر محظوظ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں ناکامی پر آمر خوش ہوں گے اور دہشت گرد اور انتہا پسندوں کی جیت ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||