بلیئر کی عالمی برادری سے اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے عالمی برادری سےاپیل کی ہے کہ وہ عراقی اکثریت کا ساتھ دیں تاکہ بقول ان کے جمہوریت کی سمت ہونے والی پیش رفت میں دہشت گرد رکاوٹیں پیدا نہ کرسکیں۔ ٹونی بلیئر عراق کے جنوبی شہر بصرا اور اس کے اطراف میں کار بم حملوں کے بعد یہاں لندن میں پارلیمان سے خطاب کر رہے تھےان دھماکوں میں کم از کم اڑسٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں کئی اسکول کے بچے بھی ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً دو سو افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ اس علاقے میں سکیورٹی کی ذمہ داری برطانیہ کی ہے بلئیر نے کہا کہ علاقے میں فوجی دستوں کی تعداد میں اضافے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ بصرہ میں برطانیہ کے فوجی کمانڈر بریگیڈیئر نک کارٹر کا کہنا ہے کہ حملہ آور یقیناً بصرہ کے باہر یا ممکن ہے کہ عراق کے باہر سے آئے ہیں۔ ٹونی بلیئر نے اس بات پر زور دیا کہ ان دھماکوں سے دو ماہ بعد ہونے والی اقتدار کی منتقلی کا پروگرام متاثر نہیں ہوگا۔ اقتدار کی منتقلی تیس جون کو ہونی ہے۔ برطانیہ کہ وزیرِ خارجہ جیک اسٹرا نے کہا کہ شدت پسند اقتدار کی منتقلی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اگر یہ دھماکے شیعہ افراد نے کئے توان دھماکوں کے نتائج کافی سنگین ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکہ شیعہ مسلمانوں کی حمایت پر تکیہ کیے ہوئے ہے۔ لیکن عراق میں برطانیہ کے خصوصی نمائندے ڈیوڈ رچمنڈ کا کہنا ہے کہ یہ حملہ آور عراق کے باہر سے آئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||