موجودہ عراق کا ماضی اور اسباب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کم و بیش اپنی موجودہ سرحدوں میں ایک ملک کے طور پر پہلی جنگ عظیم کے بعد اس وقت ابھرا جب خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد اس کے عرب صوبوں بغداد ، بصرہ اور موصل کو یکجا کرکے عراق کے نام سے برطانیہ نے اپنی عملداری میں لے لیا۔ ان تینوں صوبوں کے کرد اور عرب عوام کو امید تھی کہ عثمانی اقتدار ختم ہونے کے بعد ان کو آزادی ملے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ سن انیس سو تیس میں برطانیہ نے عراق کو ایک خودمختار ملک کے طور پر آزادی دی لیکن خلیج فارس کے کنارے واقع علاقے کویت کو علیحدہ کرکے برطانیہ نے اپنے زیرتسلط رکھا۔ سن انیس سو تیس کے عراق میں شیعہ عرب آبادی کی اکثریت تھی لیکن تاج برطانیہ نے اردن کے ہاشمی خاندان سے ایک فرد فیصل کو بادشاہ بناکر اقتدار ان کے حوالے کردیا۔ شاہ فیصل سنی تھے اور اس کے بعد ریاستی اداروں میں بھی واضح غلبہ ملک کی سنی آبادی کو ہی حاصل رہا۔اس کے مقابلے میں ملک کے شمال میں کرد اقلیت اور جنوب میں ملک کی شیعہ آبادی کو اقتدار کے ثمرات حاصل نہ ہوسکے۔ سن انیس سو اکسٹھ میں عرب نیشلسٹ بعث پارٹی سے وابستہ فوجی افسران نے شاہ فیصل کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور جنرل حسن البکر ملک کے نئے سربراہ قرار پائے جبکہ صدام حسین ان کے نائب تھے۔
گو یہ دونوں ہی رہنما سوشلسٹ اور سیکولر نظریات رکھتے تھے لیکن ان کا تعلق بھی سنی آبادی سے ہی تھا۔ سن انیس سو اناسی سے تمام اختیارات صدام حسین نے اپنے ہاتھ میں لے لیے جو ان کے پاس گزشتہ برس امریکیوں کے زیرقیادت اقتدار سے ہٹائے جانے تک رہے۔ اسی سال برس ایران میں اسلامی انقلاب آتا ہے اور اس کے بعد ہی عراق میں شیعوں پر سخت ترین وقت شروع ہوتا ہے کیونکہ صدام حسین یہ خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ عراقی شیعہ ایران کی مدد سے ان کی حکومت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ صدام حسین کے دور اقتدار میں اور خاص طور پر پہلی جنگ خلیج کے بعد سن انیس سو اکیانوے میں عراقی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے ملک کی اکثریتی شیعہ اور اقلیتی کرد آبادی کی جانب سے اختلاف رائے کے اظہار کے کسی بھی طریقے کو نہایت بے رحمی سے کچلا جاتا رہا۔ بعض اندازوں کے مطابق سن اکیانوے میں شمال میں کردوں اور جنوب میں شیعوں کی بغاوت کو کچلتے ہوئے عراقی سیکیورٹی اداروں نے دسیوں ہزار لوگوں کو ہلاک کیا تھا لیکن درست تعداد پر آج تک اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔
سن انیس سو تیس سے لے کر صدام حکومت کے زمانے تک عراقی فوج اور انٹیلی جنس سمیت سیکیورٹی اور دیگر ریاستی اداروں سے اکثریتی شیعہ آبادی کو سختی سے دور رکھا گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صدام حکومت کے خاتمے پر غم و غصہ اور مسلح مزاحمت زیادہ تر سنی علاقوں تک ہی محدود تھی۔ اکثریتی شیعہ آبادی کو پچھتر برس میں پہلی مرتبہ یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ان کو عراق میں ان کا جمہوری حق مل سکے گا۔ تاہم عراق کی موجودہ صورتحال سے اب یہ خدشات پیدا ہورہے ہیں کہ کہیں ملک میں اختیارات کی لڑائی کسی خانہ جنگی کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔ دوسری جانب ایک امکان یہ بھی ہے کہ سیاسی جوڑتوڑ کے ذریعے ایک کٹھ پتلی انتظامیہ کے قیام اور یوں پس پردہ رہ کر عراق میں صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے کی امریکی پالیسی کہیں کل کے حریفوں یعنی سنی اقلیت اور شیعہ اکثریت کو قابض افواج کے خلاف متحد نہ کردے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||