BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 April, 2004, 22:21 GMT 03:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق جھڑپوں میں سات امریکی ہلاک
۔
امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ بغداد کے علاقے صدر شہر میں شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کی عسکریت پسند تنظیم جیش مہدی کے ساتھ شدید جھڑپ میں تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سات امریکی فوجی شامل ہیں جبکہ چوبیس کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مقتدیٰ کے حامیوں نے بصرہ میں گورنر کے دفتر پر قبضہ کرلیا ہے۔ بصرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک سو پچاس افراد نے عمارت پر قبضہ کررکھا ہے جبکہ مزید کئی عمارت کے باہر جمع ہیں۔

قابض افراد کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک عمارت نہیں چھوڑیں گے جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے۔ امریکی قیادت والی فوج کے قبضہ سے اپنے ساتھیوں کی بازیابی ان کے مطالبات میں سر فہرست ہے۔

برطانوی ٹینک علاقے میں داخل ہونے کے بعد اب عمارت کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں تاہم ابھی تک کسی جھڑپ کی اطلاع نہیں ہے۔

اتوار کو صدر شہر میں امریکی فوج اور جیش مہدی کے کارکنوں کے درمیان اس وقت تصادم ہوا جب جیش مہدی کے کارکنوں نے صدر شہر میں ایک تھانے پر قبضے کی کوشش کی۔

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جانی نقصان کے باوجود جیش مہدی کی اس کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔

صدر شہر کے علاوہ عراق کے دوسرے شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی مقتدیٰ الصدر کے حامیوں نے امریکی قبضے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔

نجف سے موصول ہونےوالی اطلاعات کے

News image
شیعہ علاقے بھی بھڑک اٹھے ہیں
مطابق شہر میں اتحادی فوج کے ساتھ جھڑپ میں بیس سے زائد عراقی شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

نجف میں ہونے والے اس شدید ترین احتجاج میں ہلاک ہونے والوں میں چار ہسپانوی اور ایک امریکی فوجی شامل ہیں۔ تاہم فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں متضاد خبریں ہیں۔

ہسپانوی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کا تعلق وسطی امریکہ کے ملک السلواڈور سے تھا۔

نجف اور بغداد کے علاوہ اتوار کو جنوبی بصرہ سے بھی مظاہروں کی خبریں ملی ہیں۔

نجف میں سو کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق ہسپانوی افواج نے اپنے فوجی اڈے پر مظاہرہ کرنے والے ایک ہجوم پر گولیاں چلانا شروع کر دیں جس کے نتیجے میں بیس عراق ہلاک اور سو زخمی ہو گئے۔

مقتدیٰ الصدر نے نجف شہر میں ایک بہت بڑے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہرے بے کار ہیں اب وقت آگیا ہے کہ قابض فوج کو خوف زدہ کر دیا جائے۔

بغداد میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا واقعہ مقتدیٰ الصدر کے خطاب کے تھوڑی ہی دیر بعد رونما ہوا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مقتدیٰ الصدر کا تعلق انتہا پسند شیعہ رہنماوں میں ہوتا ہے لیکن ابھی تک وہ امریکہ کے خلاف سنی علاقوں میں امریکی قبضے کےخلاف کی جانے والی مزاحمت سے الگ رہے ہیں۔

نجف میں رونما ہونے والی اس صورتحال پر عراق میں انتظامی امور کے امریکی رہنما پال بریمر نے کہا ہے کہ’ عراقیوں نے اپنی حد پار کی ہے‘۔

اتوار کو ہونے والے مظاہروں کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ان سے عراق میں امریکی فوج کے لیے ایک اور محاذ کھل گیا ہے۔

شیعہ علاقوں میں یہ مظاہرے مقتدیٰ الصدر کے ایک قریبی ساتھی کی گرفتاری اور امریکی قبضے کی شدید مخالفت کرنے والے ایک اخبار کو بند کئے جانے سے بھڑک اٹھے تھے۔

نجف سے ملنے ایک اطلاع میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مظاہرین نے ہسپانوی افواج پر پتھر برسائے جس کے جواب میں امریکی اتحاد والی قابض ہسپانوی فوج نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد