BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 April, 2004, 18:18 GMT 23:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلوجہ مزید تشدد، امریکی تشویش
فلوجہ
امریکیوں کے لیے فلجہ کے واقعات پریشانی سے زیادہ حیران کن بتائے جاتے ہیں
عراق میں جمعرات کو بھی پرتشدد واقعات ہوئے ہیں اور حکام نے وہاں ایک عالمی تجارتی نمائش کو منسوخ کردیا ہے۔

بش انتظامیہ نے بدھ کو فلوجہ میں فوج کے لیے کام کرنے والے چار امریکی ٹھیکے داروں کو گھات لگا کر ہلاک کیے جانے اور ان کی لاشوں کو مسخ کر کے لٹکانے کی انتہائی شدت سے مذمت کی ہے۔

لیکن جس شدت سے فلوجہ کے واقعے کی مذمت کی گئی ہے اس سے دراصل یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل تشویش ان ہلاکتوں یا ان ہلاکتوں کے طریقے کے بارے میں نہیں بلکہ اس واقعے کی تفصیلات اور تصاویر کی امریکی ذرائع ابلاغ میں اشاعت اور اس کے صدارتی انتخابات کی مہم پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ہے۔

کئی امریکی اخبارات اور بعض ٹیلی ویژن چینلوں پر اس واقعے کی جو تصاویر دکھائی گئی ہیں اس سے صومالیہ میں امریکی فوجیوں کی لاشوں کو سڑکوں پر گھسیٹے جانے کی یاد تازہ ہوتی ہے۔

گو امریکی محکمۂ دفاع اور خارجہ اس طرح کے تقابل کو مسترد کرتے ہیں اور عراق سے متعلق بش انتظامیہ کے عزم کو دہراتے ہیں۔

عراق کے امریکی حاکم پال بریمر کا کہنا تھا کہ جو مناظر فلوجہ میں دیکھے گئے ہیں وہ ناقابل معافی اور قابل مذمت ہیں۔

فلوجہ
ٹھیکیداروں کو ان کا گاڑیوں کے اندر ہی تشدد کا نشانہ بنایا گیا

ان کا کہنا ہے کہ ’ایسے کام اسلام سمیت دنیا کے تمام ہی مذاہب کی تعلیمات اور ایک مہذب سماج کی روایات کے بھی منافی ہیں۔ان واقعات کے ذمہ داروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج عراقیوں کا ہاتھ بٹانے کے لیے یہاں موجود رہیں گی اور تیس جون کے بعد بھی عراقیوں کو جب تک ضرورت پڑی قاتلوں اور دہشت گردوں کے خلاف ہم ان کی مدد کرتے رہیں گے۔

فلوجہ کے واقعات نے امریکی انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عوامی سطح پر تو اب بھی حکام پرعزم دکھائی دیتے ہیں لیکن بلاشبہ ان واقعات نے عراقی جنگ کی حمایت اور مخالفت کے حق میں دلائل کی جنگ کو مزید شدید کردیا ہے۔

دوسری جانب عراق میں پرتشدد واقعات جاری ہیں اور جعرات کو بھی فلوجہ میں ایک امریکی فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دارالحکومت بغداد میں ایک قافلے میں شامل آئل ٹینکر کو سڑک کے کنارے ایک بم کے ذریعے اڑا دیاگیا۔

فلوجہ
فلوجہ میں نذرِ آتش کی جانے والی ایک گاڑی

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ایک امریکی فوجی مارا گیا۔محکمۂ دفاع کے اعدادوشمار کے مطابق مارچ میں ہلاک ہونے والے اتحادی فوجیوں کی تعداد کم ازکم پچاس ہے جو مئی کے بعد سے ایک ماہ میں ہلاک ہونے والوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔

سلامتی کی اسی خراب صورتحال کے تناظر میں حکام نے عراق میں ایک بڑی تجارتی نمائش بھی تجارتی اداروں کی عدم دلچسپی کی بناء پر منسوخ کردی ہے حالانکہ اس میں عراق کی تعمیرنو کی کوششوں کو اجاگر کیا جانا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد