عراق: دو جھڑپوں میں تیرہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی فوج اور شورش پسندوں کے درمیان دو جھڑپوں میں بارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بغداد کے شمال میں واقع قصبے فلوجہ میں ہونے والی پہلی جھڑپ میں ایک ٹی وی کیمرہ مین سمیت پانچ عراق اور ایک امریکی میرین فوجی ہلاک ہو گئے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مارٹر گنوں، راکٹوں اور خود کار رائفلوں سے مسلح نقاب پہنے ہوئے شورش پسند فلوجہ شہر کی گلیوں میں گشت کرتے رہے۔ شہر میں لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب امریکی فوج نے شہر کا رخ کیا اور گھر گھر تلاشی لینا شروع کر دیا۔ عام طور پر امریکی فوج اپنے خلاف شدید نفرت اور مخالفت کی وجہ سے اس شہر کی طرف کم ہی آتی ہیں۔ فلوجہ مجموعی طور پر سنی مسلمان آبادی کا علاقہ ہے جہاں صدام حسین کی حمایت رہی ہے اور امریکی فوج اس شہر کو ملک کا خطرناک ترین علاقہ قرار دیتی ہے۔ مارچ کے مہینے میں اس شہر میں گیارہ امریکی فوجی ہلاک اور کئی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ کل ہی شورش پسندوں نے ایک دستی بم پھینک کر ایک کارواں میں سفر کرنے والے امریکی فوجی کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس جگہ صدام حسین کی حمایت میں نعرے بازی کرتا ہوا ایک ہجوم بھی اکٹھا ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے تکریت میں ہونے والی ایک جھڑپ میں چار عراقی فوجی اور تین مسلح شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ یہ چھڑپ عراقی فوج جی جانب سے کی جانے والی ایک کارروائی کے دوران ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق بیس سے زائد مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||