سفارت کاروں کی بلیئر پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے پچاس سے زائد سابق سفارت کاروں نے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے نام ایک مشترکہ خط میں ان کی مشرق وسطی کی پالیسی پر تنقید کی ہے۔ ان سفارت کاروں نے ٹونی بلیئر پر زور دیا کہ یا تو وہ مشرق وسطی میں امریکی پالیسی کو تبدیل کرانے کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کریں یا امریکہ کی حمایت ترک کر دیں۔ ان سفارت کاروں نے ٹونی بلیئر کو ان کی عراق اور اسرائیل میں امریکی حمایت پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ترجمان کے مطابق ٹونی بلیئر اس خط کا مناسب وقت پر جواب دیں گے۔ ان سفارت کاروں میں ماضی میں بغداد اور تل ابیب میں متعین سفارت کار بھی شامل ہیں۔ اپنے خط میں ان سفارت کاروں نے کہا ہے: ’ ہم محسوس کرتے ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم کھلے عام اپنے تحفظات کا اظہار کریں۔ ایسا ہم اس امید پر کر رہے ہیں کہ اس پر پارلیمان میں توجہ دی جائے گی اور برطانوی پالیسی کا از سر ِنوع جائزہ لیا جائے گا‘ ان سفارت کاروں کے ترجمان یونان کے لئے سابق برطانوی سفارت کار اولیور مائلز کے مطابق ان کا مقصد مسٹر بلیئر کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانا نہیں بلکہ صرف اپنا نقطہ نظر سے آگاہ کرنا ہے۔ بی بی سی کے عالمی حالات ِ حاضرہ کے نمائیندہ پال رینالڈ کے مطابق اس لسٹ میں برطانیہ کے مشرق وسطی میں بہت سے سابق سفارت کاروں کے نام بھی شامل ہیں اور اس خط کی اشاعت ان کی عراق اور مشرق وسطی کے بارے میں برطانوی پالیسی سے مایوسی کا واضح اظہار ہے۔
پال رینالڈ کے مطابق ان سابق سفارت کاروں کے خیالات سے، سوائے ٹونی بلیئر اور سیکر یٹری خارجہ کے، برطانوی وزارت خارجہ کے زیادہ تر اہلکار متفق ہیں۔ ان سفارت کاروں نے امریکہ کی سرپرستی میں قائم اتحاد پر الزام عائد کیا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ان کے پاس نہ تو کوئی مناسب حکمت عملی ہے اور نہ ہی عراقی شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کا کوئی احساس۔ انہوں نے صدر بش کے اسرائیل کے کچھ بستیوں کو برقرار رکھنے کے منصوبہ کی حمایت کے فیصلہ کو ناجائز اور یکطرفہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مسٹر بلیئر کی طرف سے صدر بش کے اس فیصلہ کی حمایت کرنے پر بھی تنقید کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||