ہمارا عزم متزلزل نہیں ہوگا: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے زور دیا ہے کہ عراقیوں کو تیس جون کی ڈیڈلائن سے قبل اقتدار منتقل کردیا جائے گا۔ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر بش نے کہا کہ خوف اور دھمکیاں ہمارے ارادے متزلزل نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ عراق میں اس طرز حکومت کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہیں جو اقوام متحدہ نے پیش کی ہے۔ امریکی صدر نے کہا ’عراق کے بارے میں میں اور ٹونی بلیئر فیصلہ کرچکے ہیں۔ عراق آزاد ہوگا اور عراق ایک پر امن ریاست بنے گا۔ ہم کسی دھمکی سے ڈر کر اس معاملے پر اپنا ارادہ نہیں بدلیں گے‘۔ صدر بش نے کہا کہ عراق یا تو جمہوریت کو لاحق خطرات کو دور کرے گا یا پھر ظلم و ستم کی حکمرانی کے دور میں واپس چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسند اور دہشتگرد ملک کا اختیار حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ عراق میں حالات قابو میں کرنا اتحادیوں کے لئے ایک مشکل کام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراق میں امن و امان کے قیام کے لئے اتحادی اب اپنی کوششیں دگنی کردیں گے۔ بلیئر کا کہنا تھا کہ عراق میں نئی حکومت کے قیام کے عمل میں اقوام متحدہ کا ادارہ وسیع تر کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے پر ایک نئی قرارداد منظور کی جائے گی۔ اس سے قبل ٹونی بلیئر نے اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان سے نیویارک میں ملاقات کی تھی جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ عراق کے بارے میں بین الاقوامی برادری کا مقصد مشترکہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مشرق وسطٰی میں امن کے قیام کے لیے نقشۂ راہ کو ترک نہیں کیا گیا ہے۔ ان مذاکرات سے قبل صدر بش نے اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون کے منصوبے کی حمایت کی تھی کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی سرزمین سے اپنی فوجیں واپس بلالیں گے لیکن غرب اردن میں قائم یہودی بستیاں اپنی جگے موجود رہیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||