ٹونی بلئیر پر جنگی جرائم کا مقدمہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے عراق پر حملے میں برطانوی حکومت کی حمایت کے خلاف جنگی جرائم کی عالمی عدالت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر اور ان کے دو وزرا پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی تحیقات کراۓ۔ برطانوی حکومت کے خلاف اس قانونی کار روائی کا مطالبہ ’لیگل ایکشن اگینسٹ وار‘ نامی ایک گروپ نے کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کے اس قصے میں صرف وزیر اعظم ٹونی بلئیر، وزیر خارجہ جیک سٹرا اور وزیر دفاع جیف ہون ہی ملوث نہیں بلکہ اٹارنی جنرل لارڈ گولڈ سمتھ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس جنگ کو قانونی قرار دیا۔ برطانوی دفتر خارجہ نے اس درخواست پر کسی قسم کے رد عمل سے گریز کیا ہے۔ اور صرف اتنا کہا ہے کہ برطانیہ کا اس جنگ میں حصہ لینے کا جواز قانونی تھا۔ جبکہ اس قانونی کار روائی کا مطالبہ کرنے والے مائیکل منسفیلڈ کے مطابق ، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا معاملہ ہو یا اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی کا یا پھر صدام حسین کے بر طرف کیئے جانے کا سبھی کے حوالے سے برطانوی حکومت کا عراق پر حملے کا فیصلہ قانونی نقطہ نگاہ سے درست نہ تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||