یورپی اتحاد: بلیئر کی بدلی پالیسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی یونین کے نئے آئین سے متعلق برطانوی حکومت کی پالیسی میں اہم تبدیلی کے آثار دیکھائی دے رہے ہیں۔ خیال ہے کہ وہ یونین کے نئے آئین پر دستخط کے بارے میں برطانوی عوام کی رائے معلوم کرنے کے لئے ریفرنڈم کرانے پر غور کر رہی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر جو نئے آئین کی حمائت کرتے ہیں اب تک اس کے بارے میں ریفرنڈم کرانے کے مطالبات کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ تا ہم انہوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کے ریفرنڈم کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ نیا آئین یورپی اتحاد کی معاہدوں کو ایک دستاویز کی شکل میں لے آئے گا اور اس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ یورپی اتحاد کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں۔ بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار کہ کہنا ہے کہ اس مسئلے پر پالیسی میں تبدیلی کا یہ واضح ترین اشارہ ہے۔ اس سے قبل ٹوری رہنما مائیکل ہورڈ نے کہا کہ ٹونی بلیئر اب اس مسئلے پر ’ کھیل کھیلنا بند کر دیں‘۔ اگرچہ ریفرنڈم کے متعلق ابھی تک حکومت کی طرف سے باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا تاہم وزیرِ اعظم نے اس کے بارے میں اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||