عراق میں چیلنج درپیش ہے: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر بش نے اپنے ہفتہ وار نشری خطاب میں اعتراف کیا ہے کہ عراق میں امریکہ کو سنگین اور جاری چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عراق میں فی الحال دہشت گردی جاری رہنے کا خطرہ ہے تاہم ان کا اصرار تھا کہ عراقی عوام کی زندگی بہتر ہو رہی ہے انہوں نے دعوٰی کیا کہ مزاحمت کاروں کو عوام میں زیادہ حمایت حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’ان گروہوں کو عراقی عوام میں بہت کم حمایت حاصل ہے۔ ہمارے اتحادیوں نے عراق میں بہتر اور واضح حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پہلے ہم سلامتی کا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں پھر حاکمیت عراقی عوام کو منتقل کرنے کی سمت پیش رفت ہوگی۔‘ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار نِک چائلڈس کا کہنا ہے کہ صدر بش کا انداز نہ تو معذرتخواہانہ تھا اور نہ ہی دفاعی۔ بلکہ انہوں نے موجودہ صورتحال کو خوبصورت الفاظ کا ملمّہ چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے صرف گزشتہ ماہ عراق میں ہلاک ہونے والے ایک سو بیس سے زیادہ امریکی فوجیوں کے ذکر سے اجتناب برتتے ہوئے کہا کہ وہ بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔ صدر بش نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی‘۔ صدر بش کا کہنا تھا: ’عراق میں جمہوریت کی کامیابی کی یہ نوید لے کر دمشق اور تہران جائے گی کہ آزادی ہر قوم کا مستقبل ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||