فلوجہ کے شہریوں کا اظہار خوشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شہر فلوجہ میں تین ہفتوں سے زیادہ عرصہ تک جاری خونریز لڑائی کے بعد امریکی فوجوں کے انخلاء پر شہر کے عوام نے بڑے زور شور سے جشن منایا۔ بغداد میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس وقت فلوجہ پر ایک عراقی پرچم لہرا رہا ہے جہاں سے امریکی فوج کی واپسی امریکیوں پر فتح تصور کی جا رہی ہے۔ شہر کے میناروں سے شہریوں نے فتح کے نعرے لگائے اور عوام جوق در جوق سبز اسلامی پرچم لہراتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور مسلح افراد نے خوشی کے اظہار میں فضا میں فائرنگ کی۔ تین ہفتے قبل فلوجہ میں چار امریکی ٹھیکہ داروں کے قتل اور ان کی لاشیں مسخ کئے جانے کے بعد امریکی فوج نے شہر پر جس طرح حملہ کیا تھا فلوجہ کے لوگوں نے اسے انتقامی کارروائی قرار دیا تھا۔ اس حملے میں چھ سو سے زیادہ عراقی ہلاک ہوئے۔ اس وقت سے شہر میں امریکی فوج اور مسلح مزاحمت کاروں کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی اور امریکی فوجوں نے شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ گزشتہ سال یکم مئی کو صدر بش نے فاتحانہ انداز سے عراق میں جنگ کے خاتمہ اور مشن کی تکمیل کا اعلان کیا تھا جبکہ اس اعلان کے ٹھیک ایک سال بعد امریکی فوج کو فلوجہ سے نکلنا پڑا ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کی جگہ صدام حسین کے ریپبلیکن گارڈز کے ایک سابق کمانڈر کی قیادت میں عراقی فوجی دستہ نے شہر میں مورچے سنبھالے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||